اور تیرے بندوں کی اولاد ہیں۔ ہماری گزشتہ زندگی میں ہمارے دل جس قدرتیری یاد سے غافل رہے وہ ہمیں معاف فرما۔“
٭…دوسراعرض گزارہوا:’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تو پاک ہے ، ہم تیرے بندے اور تیرے بندوں کی اولاد ہیں ہمارے اور تیرے درمیان جو مُعاملہ ہے اس میں ہم پر حُسنِ نظر کے ساتھ احسان فرما۔‘‘
٭…تیسرے نے کہا:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو پاک ہے، ہم تیرے بندے ہیں اور تیرے بندوں کی اولاد ہیں کیا ہم دعا کی جرأت کریں ؟ تو جانتا ہے کہ ہمیں اپنے کسی کام کی حاجت نہیں۔ بس ہم پر یہ احسان فرما کہ ہمیں ہمیشہ اپنے راستے پر ثابت قدم رکھ۔“
٭… چوتھے نے عرض کی :’’الٰہی عَزَّ وَجَلَّ !تیری رضاطلب کرنے میں ہم عاجزوکمزور ہیں،تو اپنے جود و کرم سے اس پر ہماری مدد فرما۔“
٭…پانچویں نے کہا:’’الٰہی عَزَّ وَجَلَّ!تو نے ہمیں ایک نطفے سے پیدا کیا اور اپنی عظمت میں غور و فکر کرنے کے سبب ہم پر احسان فرمایا تو جو تیری عظمت میں مشغول ہو اور تیرے جلال میں متفکر ہو کیا وہ کلام کی جرأت کرے گا؟ہمارا مقصود تو تیرے نور کا قرب حاصل کرنا ہے۔“
٭…چھٹاعرض گزار ہوا:’’ہماری زبانیں تجھ سے دعا مانگنے سے عاجز ہیں کیونکہ تیری شان عظیم ہے تواپنے اولیا کے قریب ہے اور تیرے احسانات اہْلِ محبت پر کثیر ہیں۔“
٭…ساتویں نے کہا:’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو نے ہمارے دلوں کی اپنے ذکر کی طرف راہنمائی فرمائی اور اپنی ذات میں مشغول ہونے کے لئے ہمیں فراغت بخشی،لہٰذااس نعمت کے شکرانے میں ہم سے جوکمی ہوئی وہ معاف فرما۔“
٭…آٹھویں نے عرض کی:’’الٰہی عَزَّ وَجَلَّ!بے شک تو ہماری حاجت کو جانتا ہے اوروہ صرف تیرے وجہِ کریم کی زیارت ہے۔‘‘
٭…نواں عرض گزار ہوا:’’غلام اپنے آقا پر کیونکر جرأت کر سکتا ہے؟لیکن جب تو نے اپنے لُطف و کرم سے ہمیں دعا کا حکم دیا ہے تو تُوہمیں ایسا نور عطا فرماجس کے ذریعے ہمیں آسمانی طبقات کے اندھیروں میں