Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
94 - 784
 راستے سے اِنحِراف کیا تو میں تم سے ناراض ہوجاؤں گا۔“انہوں نے عرض کی: اے میرےرب! ان کی علامات کیا  ہیں؟ ارشاد فرمایا:” وہ دن کے سائے کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں جس طرح شفیق چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ غروبِ آفتاب کے ایسے مشتاق ہوتے ہیں جیسے پرندہ غروبِ آفتاب کے وقت اپنے گھونسلے کا مشتاق ہوتا ہے۔ پھر جب رات انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اندھیرا چھا جاتا ہے اور بستر لگ جاتے ہیں اور افرادِ خانہ تھکاوٹ سے چُور ہوتے ہیں اور ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس چلا جاتا ہے تو وہ میرے لئے  اپنے قدموں کو نصب کر لیتے ہیں اور میرے لئے اپنی پیشانی بچھا دیتے ہیں اور میرے کلام کے ساتھ مجھ سے مناجات کرتے ہیں اور مجھ سے میرے انعامات کی دعا کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی چیختا  اور روتا ہے  تو کوئی آہیں بھرتا ہے اور کوئی اپنا دکھ درد بیان کرتا ہے، کوئی کھڑا ہے توکوئی بیٹھا ہے،کوئی رکوع میں ہے تو کوئی سجدے میں ہے۔میری رضا کے لئے  وہ جو بھی مشقت اٹھاتے ہیں میں اسے دیکھتا ہوں اور میری محبت کی وجہ سے جس دکھ درد کا اظہار کرتے ہیں میں اُسے سنتا ہوں۔سب سے پہلے میں انہیں جو عطا کرتاہوں وہ تین چیزیں ہیں:(۱)…اپنا نور ان کے دلوں میں ڈالتاہوں تو وہ میرے بارے میں ایسےبتاتے ہیں جیسے میں ان کے بارے میں بتاتا ہوں۔ (۲)…تمام آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے اگر ان کے میزان میں ہو تو اسے ان کی نظروں میں کم کردیتا ہوں۔(۳)…اپنی رحمت کو ان کی طرف متوجہ کرتاہوں اور تم جانتے ہو کہ جس کی طرف میری رحمت متو جہ ہو جاتی ہے کون جانے کہ میں اسے کیا عطا کرنا چاہتا ہوں۔ 
سَیّدُناداؤد عَلَیْہِ السَّلَام اور 14 اہل شوق:
(5)…منقول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناداؤدعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی:اے داؤد! کب تک جنت کا تذکرہ ہوگا اورکب  مجھ سے شوق کاسوال کرو گے؟آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ تیرے مشتاق کون ہیں؟ارشاد فرمایا:بے شک میرے مشتاق وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو میں نے ہر کدورت سے پاک صاف کر دیا ہے اور انہیں چوکنّا کر دیا ہے۔ ان کے دلوں میں اپنی طرف سوراخ کردیا ہے جس سے وہ میری طرف دیکھتے ہیں اور ان کے دلوں کو اپنے دستِ قدرت میں لے کر آسمانوں میں رکھ دیتا ہوں ، پھر اپنے خاص فرشتوں کوبلاتا ہوں جب وہ جمع ہوکر مجھے سجدہ کرتے ہیں تو