Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
92 - 784
 وَرَآءَکُمْ فَالْتَمِسُوۡا نُوۡرًا ؕ (پ۲۷،الحدید:۱۳)	کچھ حصہ لیں کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو وہاں نور ڈھونڈو۔
	یہ آیتِ طَیِّبَہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں اصْلِ نور پاس ہونا ضروری ہے پھرآخرت میں اس کی چمک بڑھے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ آخرت میں کوئی نیا نور عطا کیا جائے گا اور اس طرح کے اُمور میں اندازہ وقیاس  سے کوئی بات کہہ دینا خطرے سے خالی نہیں اور اس بارے میں ہم پر اب تک کوئی ایسی بات منکشف نہیں ہوئی جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے علم اور ہدایت میں اضافہ فرمائے اور حق کا حق ہونا ہم پر ظاہر فرمائے۔ شوق کی حقیقت اور اس کے معانی کی وضاحت کے لئے  انوارِ بصیرت کی اتنی مقدار کافی ہے۔
احادیث وآثار سے ثبوت:
	شوق کے ثبوت پر اس قدر احادیث وآثاردلالت کرتے ہیں کہ انہیں شمار  نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں ان میں سے بعض کا بیان ہوگا ۔
شوقِ الٰہی کے متعلق روایات:
(1)…رسولِ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ دعا مشہور ہے:’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیۡ اَسۡئَلُکَ الرِّضَا بَعۡدَ الۡقَضَاءِ وَ بَرۡدَ الۡعَیۡشِ بَعۡدَ الۡمَوۡتِ وَ لَـذَّة َ النَّظۡرِ اِلٰی وَجۡھِکَ الۡکَرِیۡم ِوَالشَّوۡقَ اِلٰی لِقَائِکَ یعنی الہٰی!میں تجھ سے قضا کے بعد رضا کا، موت کے بعد اچھی زندگی کا اور تیرے دیدار کی لذّت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں ۔“(1)
نیک بندوں کا شوق:
(2)…حضرت سیّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار سے فرمایا:مجھے تورات شریف کی کسی خاص آیت کے بارے میں بتاؤ تو انہوں نے بتایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  تورات میں ارشاد فرماتا ہے:’’نیک بندے میری ملاقات کا بہت شوق رکھتے ہیں اور میں ان کی ملاقات کا بہت زیادہ مشتاق ہوں۔“ پھر فرمایا کہ تورات میں اسی آیت کے قریب یہ بھی ہے کہ” جو میری جستجو کرے گا وہ مجھے پا لے گا اور جس نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…المعجم الکبیر،۱۸/  ۳۱۹،حدیث:۸۲۵،دون’’الکریم‘‘