Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
91 - 784
کرنے کی توفیق عطا فرما۔“کیونکہ اس شوق کی انتہاآخرت میں ہوگی۔
دوسرے شوق کی انتہانہیں:
	جہاں تک شوقِ ثانی کا تعلق ہے تو یوں لگتا ہے کہ دنیا وآخرت میں اس کی کوئی انتہا نہیں ہے کیونکہ اس کی انتہا یہ ہے کہ آخرت میں بندے کے واسطے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا جلال، اس کی صفات،اس کی حکمتیں اور اس کے اَفعال اور تمام معلوماتِ باری تعالٰی منکشف ہو جائیں اور یہ محال ہے کیونکہ معلوماتِ الہٰیہ غیر متناہی ہیں اور بندہ ہمیشہ یہ سمجھے گا کہ جلال وجمالِ خدا وندی میں سے بہت باقی ہے جو مجھ پر منکشف نہیں ہوا جس کی وجہ سے اس کا شوق کبھی تھمے گا نہیں خصوصاًوہ شخص جو اپنے درجے سے اوپر کئی درجات دیکھتا ہے۔ البتہ! اصْلِ وصال حاصل ہونے کے بعد اس کی تکمیل کا اشتیاق ہوتا ہے ،اس وجہ سے وہ شوق کو لذیذ پاتا ہے جس میں کوئی درد و اَلم نہیں ہوتا اورکوئی بعید نہیں کہ الطافِ کشف ونظر  پے در پے اور بے انتہا ہوں جس کے نتیجے میں چین اور لذّت اَبَدُ الآباد  تک روز افزوں رہے اور الطاف و کرم کی نئی نئی لذّتیں اس چیز کے شوق سے مشغول کر دیں جو حاصل نہیں ہوئی۔ یہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں دنیا میں بالکل کشف نہیں ہوا ان میں کشف کا حصول ممکن ہو اور اگر ایسا ہونا ممکن نہ ہو تو راحت و لذّت ایک حد پرجاکر ٹھہر جائے گی اور اس سے بڑھے گی نہیں لیکن ہمیشہ برقرار رہے گی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے اس فرمان میں اس معنیٰ کا احتمال پایاجاتا ہے:
نُوۡرُہُمْ یَسْعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ بِاَیۡمَانِہِمْ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوۡرَنَا(پ۲۸،التحریم:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کےآگے اور ان کے دہنے عرض کریں گے اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارا نورپورا کر دے۔
	مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا میں اصْلِ نور ہوگا توآخرت میں اس نور کو کامل کردیا جائے گااور یہ بھی احتمال ہے کہ جو نور دنیا میں روشن ہوا مگر مزید کمال اور روشنی کا محتاج تھا تو وہ آخرت میں تکمیل کو پہنچے۔ ہوسکتا ہے کہ اِتمامِ نور سے یہی مراد ہو۔
	اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان ہے:
اُنۡظُرُوۡنَا نَقْتَبِسْ مِنۡ نُّوۡرِکُمْ ۚ قِیۡلَ ارْجِعُوۡا		ترجمۂ کنز الایمان:ہمیں ایک نگاہ دیکھو ہم تمہارے نور سے