Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
90 - 784
 کمالِ ظہور مشاہدہ اور کامل تجلّی سے ہی ہوتا ہے اور یہ آخرت میں ہی ہو گا تو لازمی طور پر اس سے شوق پیدا ہوگا کیو نکہ یہی عارفین کے محبوب کا منتہیٰ ہے۔یہ شوق کی دو اقسام میں سے ایک ہے یعنی جو چیز کچھ نہ کچھ واضح وظاہر ہو اس کے کمالِ ظہور کا مشتاق ہونا۔
شوق کی دوسری صورت:
	اُمورِ الہٰیہ لا متناہی ہیں اور ان میں سے بعض ہی تمام مخلوق پر منکشف ہوتے ہیں اور باقی لامتناہی اُمور پوشیدہ رہتے ہیں اور عارف کو ا ن کے وُجود کا علم ہوتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو یہ اُمور معلوم ہیں اور یہ بھی جانتاہے کہ ”جو باتیں مجھے معلوم نہیں وہ معلوم باتوں کی بَنِسْبَت بہت زیادہ ہیں“ اس لئے وہ ہمیشہ طالب اور مشتاق رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو ان چیزوں کی اصْلِ معرفت حاصل ہو جائے جو معلومات میں سے باقی ہیں اوروہ ان کو  بالکل نہیں جانتا، نہ واضح طور پر اور نہ ہی پوشیدہ طور پر۔
پہلے شوق کی انتہا:
	پہلاشوق توآخرت میں انتہا کو پہنچے گاجب وہ مقام حاصل ہوگا جسے دیدار، لِقا اور مشاہَدہ کہتے ہیں اور دنیا میں اس شوق کا تَھمنا ممکن نہیں۔
	حضرت سیّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اہْلِ اشتیاق میں سے تھے۔آپ فرماتے ہیں: ایک دن میں نے عرض کی:اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ! اگر تو اپنے محبین میں کسی کو اپنے دیدار سے قبل ایسی چیز عطا فرماتا ہو جس سے اس کے دل کو تسکین ملتی ہو تو وہ چیز مجھے عطا فرما کیونکہ بے قراری نے مجھے بہت پریشان کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے اپنے سامنے کھڑا کیا اور فرمایا:’’اے ابراہیم تمہیں مجھ سے یہ سوال کرتے ہوئے حیا نہیں آ تی کہ میں اپنے دیدار سے پہلے تمہیں وہ چیز عطا کر دوں جس سے تیرے دل کو تسکین ملے؟کیا کسی مشتاق کو اپنے محبوب کے دیدار سے پہلے سکون ملتا ہے؟ میں نے عرض کی:اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ!میں تیری محبت میں خود رفتہ تھا، اس لئے  مجھے پتہ نہ چلا کہ کیا بول رہا ہوں۔ تُو مجھے معاف فرما دے اور مجھے سکھا دے کہ میں کیا کہوں؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اس طرح کہو کہ ”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! مجھے اپنی قضا پر راضی رکھ اور اپنی آزمائشوں پر مجھے صبر دے اور اپنی نعمتوں پر شکر