اِشتیاق نہیں ہوتا کیونکہ اگر کسی شخص کو دیکھا ہو نہ اس کی کوئی تعریف سنی ہو تو اس کی طرف اشتیاق ناممکن ہے نیز جس کا ادراک کامل طور پر ہو جائے اس کا بھی اشتیاق نہیں ہوتااور کامل ادراک دیکھنے سے ہوتا ہے تو جو اپنے محبوب کے مشاہدے میں ہو اوروہ دائمی طور پر اسےدیکھتا ہواس کے حق میں شوق کا تصور نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا تعلق صرف اس چیز کے ساتھ ہے جس کا ایک جہت سے ادراک ہو اور ایک جہت سے نہ ہو۔
شوق کی پہلی صورت:
اس کی دوجہتیں ہیں اور مُشاہَدات میں ایک مثال سے ہی اس کی وضاحت ہوجائے گی۔ اول یہ کہ اگر کسی کا معشوق غائب ہو اور اس کا خیال عاشق کے دل میں باقی ہو تو وہ اپنے خیال کی تکمیل کے لئے دیدار کا مشتاق ہوگااوراگر اس کے دل سے محبوب کا ذکر، اس کا خیال اور اس کی پہچان مٹ جائے حتی کہ اس کو بھول ہی گیا ہو تو اب یہ تصور نہیں کیاجاسکتا کہ یہ اُس کا مشتاق ہو اور اگر اس کو دیکھ لے تو بھی مُتَصَوَّر نہیں کہ وقتِ دیدار اس کا مشتاق ہو کیونکہ شوق کا معنی یہ ہے کہ نفس خیال کی تکمیل کا مشتاق ہو،اسی طرح بعض اوقات انسان اپنے محبوب کو تاریکی میں دیکھتا ہے ایسے کہ اس کی صورت واضح نہیں ہوتی تو یہ تکمیلِ رُویَت کا مشتاق ہوتا ہے اور اس کی صورت کا کامل اِنکشاف اس پر روشنی چمکنے کے وقت ہوتا ہے۔
دوسرایہ کہ اگراس نے اپنے محبوب کا چہرہ دیکھامگر اس کے بال اور دیگر مَحاسِن نہ دیکھے اس لئے ان کو دیکھنے کا مشتاق ہوتا ہے اگر چہ وہ محاسن پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں اور نہ ہی اس کے دل میں ان کو دیکھنے کا کوئی خیال آیا مگروہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی عضو یا کئی اعضاء خوبصورت ہیں لیکن دیدار کے وقت اس کے جمال کی تفصیل کا ادراک نہیں ہوااس لئے جس چیز کو اس نے کبھی دیکھا نہیں ہوتا اس کے انکشاف کا مشتاق ہوتا ہے۔
یہ دونوں صورتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق میں ممکن ہیں بلکہ یہ دونوں تمام عارفین کے لئے لازم اور ضروری ہیں کیونکہ اُمورِ الہٰیہ جو عارفین کے لیے واضح ہوئے اگرچہ انتہائی واضح ہوں لیکن پھر بھی گویا کہ باریک پردے کے پیچھے سے دیکھا ہے اس لئے غایت درجہ پر واضح نہ ہوئے، بلکہ تخیلات کا شائبہ ہوگا کیونکہ اس عالم میں تمام معلومات کے لئے خیالات تمثیل اور حکایت سے جدا نہیں ہوتے اور یہ خیالات عارف کی زندگی کو بے کیف اور تلخ بنا دیتے ہیں اسی طرح دنیاوی مشاغل ان کے ساتھ مزید مل جاتے ہیں۔ بہر حال