اَلْغَرَض اس جیسے اسباب اور خواہشات میں اِنْہِماک ہی کی وجہ سے انوارِ معرفت سے روشنی حاصل کرنے اور اس کے وسیع سمندر وں میں تیرنے کی راہ مخلوق پر بند ہوتی ہے ۔لہٰذامعرفَتِ الٰہی کے طالب لوگ اُس مدہوش شخص کی طرح ہیں جس کے لئے مثال دی جائے کہ” گدھے پر سوار ہو کر گدھے کو تلاش کرتا ہے۔“ اور بات یہ ہے کہ بدیہی اور روشن اُمور جب مقصود بن جائیں تو مشکل ہوجاتے ہیں۔ اس بات کا راز یہی ہے،لہٰذااسے خوب سمجھ لیا جائے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے :
لَقَدۡ ظَھَرۡتَ فَمَا تَخۡفٰی عَلٰی اَحَدٍ اِلَّا عَلٰی اَکۡمَہَ لَا یَعۡرِفُ الۡقَمَرَا
لٰکِنۡ بَطَنۡتَ بِمَا اَظۡھَرۡتَ مُحۡتَجِباً فَکَیۡفَ یُعۡرَفُ مَنۡ بِالۡعُرۡفِ قَدۡ سَتَرَا
ترجمہ:(۱)بے شک تُو ظاہر ہے،کسی پر پوشیدہ نہیں، سوائے اس کے جو پیدائشی اندھا ہو اور چاند کو نہ دیکھ سکتا ہو۔
(۲) لیکن تیرا ظہور ہی سبب ِ حجاب ہوگیا تو وہ کیسے معلوم ہو جس کی شہرت ہی حجاب ہے۔
نویں فصل: شوق خُداوندی کا مطلب
شوق اِلَی اللہکا ثبوت:
جان لیجئے کہ جو محبَّتِ الٰہی کی حقیقت کا منکر ہے وہ لازمی طور پر حقیقتِ شوق کا منکر ہوگا کیونکہ شوق بغیر محبوب کے ناممکن ہے اور ہم ثابت کرتے ہیں کہ شوقِ خداوندی ہوتا ہے اور عارف اس کی طرف مجبور ہوتا ہے یہ ثبوت دو طر ح سے ہے :(۱)تجربہ وبصیرت کے اعتبار سے اور(۲)احادیث وآثار کے ذریعے سے۔
تجربہ وبصیرت سے ثبوت:
جہاں تک تجربہ وبصیرت کا تعلق ہے تو اس کے اثبات میں وہی کافی ہے جو محبت کے اثبات میں گزر چکا ہےکیونکہ محبوب کے غائب ہونے کی صورت میں اس کی طرف اشتیاق ضرور ہوتا ہے لیکن جو موجود ہو اور پاس ہو اس کی طرف اشتیاق نہیں ہوتا کیونکہ ”شوق ہے کسی چیز کو طلب کرنے اور اس کی طرف مشتاق ہونے کا نام۔“ اور موجود کو طلب نہیں کیا جاتا۔لیکن اس کی تفصیل یہ ہے کہ شوق اسی شے کا ممکن ہے جس کا ایک جہت سے ادراک ہوسکے اوردوسری جہت سے نہ ہوسکے اور جس کا بالکل ادراک نہ ہوسکے تو اس کا