Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
87 - 784
 کی تصنیف ہے تو جس نے اس کی طرف فعْلِ الٰہی کی حیثیت سے دیکھا اوراسی لحاظ سے اس کو پہچانا اوراسی اعتبار سے اس سے محبت کی تو وہ ذاتِ باری تعالٰی کا ہی ناظر اور عارف ہوا اور اسی کا محب ہوا اور یہ سچا مُوَحِّد ہے کہ جس کی نظر صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف ہوتی ہے بلکہ اپنے نفس کی طرف بھی صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کابندہ ہونے کی حیثیت سے نظر کرتا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں ہی کہا جاتا ہے کہ توحید میں فنا ہے اور اپنے نفس سے فنا ہے اور کسی بُزرگ کے اس قول میں اسی طرف اشارہ ہے:’’کُنَّا بِنَا فَفَنِیۡنَا عَنّا فَبَقِیۡنَا بِلَا نَحۡنُیعنی ہم تھے اورخود سے فنا  ہو گئے تو اب اپنی ذات کے بغیرباقی ہیں ۔“
طویل اُنسیّت اورمعرفت میں کوتاہ فہمی:
	 یہ اُمور اربابِ بصیرت کے ہاں معلوم ہیں لیکن یہ مشکل ہیں کیونکہ عقل کمزور ہونے کی وجہ سے ان کا ادراک نہیں کر سکتی اوردوسرا یہ کہ علما اس کی ایسی تشریح و توضیح کرنے سے قاصر ہیں کہ جس سے لوگوں کو غرض سمجھ میں آجائے، اس کے علاوہ وہ اپنے نفس میں مشغول ہیں اور یہ اعتقاد رکھے ہوئے ہیں کہ”اس کو لوگوں سے بیان کرنابے فائدہ ہے۔“تو معرفَتِ الٰہی میں  کوتاہ فہمی کایہی سبب ہے۔ نیزادراک کی جانے والی تمام اشیاء جو ذاتِ باری تعالٰی پر شاہد ہیں انسان(کامل)عقل نہ ہونے کے باوُجودان کا ادراک بچپن ہی میں کرلیتا ہے پھر جب اس میں آہستہ آہستہ عقل پیدا ہوتی ہے تو وہ خواہشات میں مُسْتَغْرَق ہوجاتا ہے اورادراک کی جانے والی اشیاء اور محسوسات سےمانوس ہوچکا ہوتا ہے اورطویل اُنْسِیَّت کے باعث اس کے دل سے اِن کی وُقْعَت ختم ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب وہ اچانک کوئی عجیب و غریب جانور یا نباتات یا افعالِ الہٰیہ میں سے کوئی عجیب اور خلافِ عادت فعل دیکھتا ہے تو طبعی طور پر اس کی زبان سے معرفت کا ظہور ہوتاہے اور وہ بے ساختہ پکار اٹھتا ہے’’سُبۡحَانَ اللّٰہ‘‘حالانکہ وہ دن بھر اپنےآپ کو، اپنے اعضاء کو اور تمام حیوانات کو دیکھتا ہے جن سے اس کو اُلفت ہوتی ہے اور یہ تمام کے تمام ذاتِ باری تعالٰی پر قطعی شاہد ہیں لیکن طویل اُنسیت کی وجہ سے  ان کا شاہد ہونا محسوس نہیں ہوتا ۔البتہ اگر کوئی عاقل بالغ اندھا ہو پھر اچانک اسے بینائی مل جائے اور اس کی نگاہ آسمان وزمین، اَشجار و نباتات اور حیوانات پر دفعۃً پڑے تو اس بات کا ڈر ہوگا  کہ خالِقِ کائنات پر ان عجائبات کی شہادت کی وجہ سے انتہائی تعجب کے باعث کہیں اس کی عقل زائل نہ ہو جائے۔