Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
86 - 784
 عدم سے جانا اور اگر دھوپ معدوم نہ ہوتی تو ہم اس کے وُجود پر انتہائی مشکل سے ہی مُطَّلَع ہوتے کیونکہ اندھیرے اور روشنی میں فرق نہ ہوتو ہمیں تمام اجسام ایک جیسے نظرآئیں حالانکہ روشنی تمام محسوسات میں ظاہر تر ہے کہ اسی کے ذریعے تمام محسوسات کا ادراک کیا جاتا ہے ۔توپھر جو ذات خود ظاہر اور دوسروں کو ظاہر کرنے والی ہو تو غور کرو کہ اگر ظہور کی ضد طاری نہ ہوتی تو اس کے ظہور کے سبب اس کا مُعاملہ کس قدر مبہم ہوتا۔پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے ظاہرہے اور اسی کی وجہ سے تمام اشیاء کا ظہور ہے اگر اس کے لئے  عدم یا غائب ہونا یا متغیر ہونا ہو تا تو ضرورآسمان و زمین گر پڑتے ملک و ملکوت باطل ہوجاتے۔اس سے دونوں حالتوں کے درمیان فرق معلوم  ہوگیا۔
بصیرت وروحانیت والے کا نظریہ:
	اسی طرح اگر بعض اشیاء اس کے سبب موجود ہوتیں اور بعض کے وُجود کا سبب کوئی اور ہوتا تو دونوں چیزوں کے درمیان دلالت کرنے میں فرق معلوم ہوجاتا لیکن اس کی دلالت تمام اشیاء میں یکساں ہے اور اس کا وُجود تمام احوال میں دائمی ہے کہ اس کا خلاف محال ہے۔ اس لئے شدتِ ظہور خفا  کا سبب بناتو اَذہان کے قاصر رہنے کا یہی سبب ہےلیکن جس کی بصیرت قوی اور روحانیت غالب ہو تو وہ اپنے اعتدال کی حالت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی کو نہیں دیکھتا اور نہ  اس کے علاوہ کسی کو پہچانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حقیقی وجود صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہے اور غیر کے افعال اسی ذات کےآثارِ قُدرت میں سے ہیں اور اس کے تابع ہیں، لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سواکسی کا وُجودحقیقی نہیں، صرف ایک ذاتِ حق کا ہی وجود ہے جس کے سبب تمام افعال کا وجود ہے اور جس کا حال یہ ہو اس کی نظر تمام افعال میں فاعِلِ حقیقی کی طرف ہوتی ہے اوروہ فعل سے صَرْفِ نظر کئے ہوتا ہے۔ آسمان، زمین، حیوان اور درخت کو فعل کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان میں صرف اس حیثیت سے نظر کرتا ہے کہ یہ سب تنہا بنانے والے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صنعت ہیں تو اس کی نظر فاعِلِ حقیقی سے غیر کی طرف نہیں جاتی جس طرح کوئی آدمی کسی انسان کے شعر یا اس کے خط یا اس کی تصنیف میں نظر کرکے اس میں شاعر اور مصنف کو دیکھے اور ان چیزوں کو اس کےآثار کی حیثیت سے دیکھے نہ کہ اس حیثیت سے کہ یہ سیاہی وغیرہ ہے جس سے کاغذ پر لکھا گیا ہے۔یوں اس کی نظر غَیْرِ مصنف کی طرف نہیں جاتی اور سارا عالَم اللہ عَزَّ وَجَلَّ