(۲)…شے کا انتہائی واضح اور روشن ہوناجس کی مثال یہ ہے: چمگادڑ رات میں دیکھتی ہے اور دن میں نہیں دیکھ سکتی۔ اس کی وجہ یہ تونہیں کہ دن رات کی بنسبت خفی اورپوشیدہ ہے بلکہ اس کی وجہ دن کا انتہائی ظہور ہے کیونکہ چمگادڑ کی بینائی کمزور ہوتی ہے اورجب سورج چمکتا ہے تواس کی روشنی اس پر غالب آجاتی ہے اس لئے چمگادڑ کی کمزور بینائی کے ساتھ ساتھ دن کا انتہائی ظہور اس کے دیکھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے تو وہ اسی وقت کوئی چیز دیکھ سکتی ہے جب دن میں کچھ اندھیرا مل جائے اور اس کا ظہور کمزور پڑ جائے۔ اسی طرح ہماری عقلیں بھی کمزور ہیں اور جمالِ بارگاہِ الٰہی انتہائی روشن اور اِستِغْراق و شُمول کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے حتّٰی کہ آسمان و زمین کی سلطنت کا ایک ذرہ بھی اس کے ظہور سے پوشیدہ نہیں تو یہ ظہور اس کے خفا کا سبب ہو گیاتو پاک ہے وہ ذات جو اپنے نور کی چمک کی وجہ سے حجاب میں ہے اور اپنے انتہائی ظہور کے سبب بصیرت اور بصارت سے مخفی ہےاور شدتِ ظہور کے سبب اس خفی رہنے پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اشیاء اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں اور جس کا وُجود ایسا عام ہو کہ اس کی کوئی ضد ہی نہ ہو اس کا ادراک مشکل ہوگا۔ اگر اشیاء مختلف ہو ں کہ بعض بعض پر دلالت کرتی ہوں تو ان میں فرق جلد معلوم ہو سکتا ہے اور اگر وہ ایک ہی طریقے سے دلالت کرنے میں مشترک ہوں تو مُعاملہ دشوار ہو جائے گا۔
سورج کی روشنی سے مثال:
اس کی مثال سورج کی روشنی ہے جو زمین پر پڑتی ہے۔ ہم یہ بات یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ ایک عرض(1)ہے جو وُجودِآفتاب کے وقت زمین پر پڑتی ہے اور اس کے غروب کے وقت زائل ہو جاتی ہے تو اگر سورج غروب نہ ہوتا اور دائمی طور پر روشن رہتاتو ہم گمان کرتے کہ اجسام میں ان کے رنگوں یعنی سیاہی اور سفیدی وغیرہ کے سوا کوئی چیز نہیں کیونکہ ہم سیاہ چیز میں سیاہی اور سفید میں سفیدی کا ہی مشاہدہ کرتے ہیں تنہا روشنی کا ادراک نہیں کر سکتے لیکن جب سورج غروب ہو گیا اور ہر جگہ تاریکی پھیل گئی تو ہم نے دونوں حالتوں کے درمیان فرق جان لیا اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ اجسام دھوپ کی وجہ سے روشن تھے اور ایسی صفت کے ساتھ متصف تھے جو غروبِ آفتاب کے وقت ان سے جُدا ہوگئی تو ہم نے دھوپ کے وُجود کو اس کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… جو بذاتِ خودقائم نہ ہو بلکہ قائم بالغیرہو۔