ہیں جیسے پتھر، ڈھیلے، نباتات، درخت، حیوان، آسمان، زمین، ستارے، خشکی، سمندر، آگ، ہوا، جوہر اور عرض وغیرہ کہ ان سے پہلے خود ہمارے نُفوس،اجسام، اوصاف، احوال، دلوں کا بدلنااورہماری حرکات و سکنات کی تمام حالتیں وجودِ باری تعالٰی پر گواہ ہیں۔
ہر ذرہ اپنے خالق کا پتا دیتا ہے:
ہمارے علم کے مطابق سب سے ظاہر چیز ہمارے نُفوس ہیں پھر محسوس کی جانے والی اشیاء ہیں جن کا ہم حواسِ خمسہ سے ادراک کرتے ہیں پھروہ ہیں جن کا عقل وبصیرت سے ادراک کیا جاتا ہےاورادراک کی جانے والی ہر شے کا ایک مُدرِک (ادراک کرنے والا)، ایک شاہد اور ایک دلیل ہے اور عالَم میں جو کچھ ہے وہ اپنے خالق ومُدبِّراورمُصَرِّف ومُحَرِّک کے وُجود پر گواہ ہے اور اس کے علم، قدرت،لطف اور حکمت پردلیل ہے اور ادراک کئے جانے والے موجودات کی کوئی حد نہیں۔الغرض اگر کاتب کی حیات ہمارے نزدیک ایک ہی دلیل یعنی اس کے ہاتھ کی حرکت سے ظاہر ہو سکتی ہے تو اس ذات کا وُجود اور صفات ہمارے لئے کیوں ظاہر اور واضح تر نہ ہوگاکہ موجودات میں کوئی شے خواہ ہمارے نفس کے اندر ہو یا باہر ایسی نہیں جو اس کے وُجود، عظمت اور جلال پر گواہ نہ ہوکیونکہ ہر ذرَّہ اپنی زبانِ حال سے پکار رہا ہے کہ” اس کا اپنا وُجود اور حرکت ذاتی نہیں بلکہ وہ کسی وجود دینے اور حرکت پیداکرنے والے کا محتاج ہے۔“ اس پر اولاً توہمارے اعضاء کی ترکیب، ہڈیوں کے جوڑ، ہمارے گوشت،ہمار ے اعصاب،بال اُگنے کی جگہیں،ہمارے ہاتھ پاؤں اور تمام ظاہری و باطنی اجزاء گواہی دیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ سب اعضاء و اجزاء خود بخود مُرکَّب نہیں ہوئے جس طرح ہم یہ جانتے ہیں کہ کاتب کا ہاتھ خود بخود حرکت نہیں کرتا لیکن چونکہ موجودات میں کوئی شے مدرَک، محسوس، معقول،حاضراور غائب ایسی نہیں جو اس کے وُجود پرگواہ نہ ہو اوراس کی پہچان نہ کرائے۔ لہٰذا اس ذات کا ظہور اتنا عظیم ہوا کہ عقلیں اس کے ادراک سے حیران اور مدہوش ہوگئیں۔
عقل کے قاصر رہنے کے دواسباب:
جس شے کو سمجھنے سے ہماری عقلیں قاصر ہوں اس کے دو سبب ہیں:
(۱)…شے کا ذاتی طور پر خفی اور دقیق ہونا۔اس کی مثال واضح ہے۔