Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
83 - 784
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُ تَفْضِیۡلًا ﴿۲۱﴾ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ۔
آٹھویں فصل:   معرفتِ الٰہی میں مخلوق کی کوتاہ فہمی کے اسباب 
ہر شے گواہ:
	موجودات میں سب سے ظاہر تر اور روشن ذاتِ باری تعالٰی ہے اور یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام معرفتوں سے پہلے اس ذات کی معرفت ذہنوں میں ہواور یہی سب سے زیا دہ عقلوں پرآسان ہو لیکن مُعاملہ اس کے برعکس نظرآتا ہے۔لہٰذا اس کا سبب بیان کرنا ضروری ہے اور ہم نے یہ جو کہا کہ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمام موجو دات سے زیادہ ظاہر اور روشن ہے۔“ اس کی ایک وجہ ہے جسے ایک مثال سے ہی سمجھاجاسکتا ہے اور مثال یہ ہے کہ جب ہم کسی انسان کو لکھتے ہوئے یا کپڑے سیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمارے نزدیک اس کا زندہ ہونا تمام موجودات میں سے ظاہر تر ہوتا ہے۔پس ہمارے نزدیک اس کی حیات،علم ،قدرت اور کپڑے سینے کا ارادہ اس کی تمام ظاہری اور باطنی صفات سے زیادہ روشن ہوتے ہیں کیونکہ اس کی باطنی صفات مثلاً اس کی شہوت،غصہ،اخلاق،صحت اور مرض وغیرہ ہیں اور ان کو ہم نہیں جانتےاور ظاہری صفات میں سے بعض کو تو جانتے ہیں اور بعض میں ہم کو شک ہوتا ہے جیسے اس کی لمبائی کی مقدار اور جلد کی رنگت مختلف ہونا وغیرہ دیگر صفات لیکن جہاں تک اس کی حیات،قدرت،ارادہ،علم اور اس کے حیوان ہونے کا تعلق ہے تو یہ ہمارے نزدیک واضح ہے حالانکہ ان صفات کے ساتھ حِسِّ بصر(دیکھنے کی قوت) کابھی تعلق نہیں کیونکہ یہ صفات حواسِ خمسہ کے ساتھ محسوس نہیں کی جاتیں۔ پھر یہ کہ اس کی حیات،قدرت اور ارادے کو اس کی سلائی اور حرکت کے ذریعے ہی جانا جا سکتا ہے تو اگر ہم اس شخص کے سواعالَم میں موجود تمام اشیاءکی طرف دیکھیں تو ان کی وجہ سے ہم اس شخص کی صفت نہ پہچان سکیں پس اس کے وُجود پر صرف ایک دلیل ہے ،اس کے باوجود وہ واضح اور جلی ہے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وُجود،اس کی قدرت،اس کے علم اور اس کی تما م صفات پر وہ تما م چیزیں گواہی دیتی ہیں جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور ظاہری و باطنی حواس سے جن کا ہم ادراک کرتے