Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
82 - 784
 اس کی عظیم مہارت اور فَنِ شاعری ظاہر ہوتی ہو تو اس کی وجہ سے معرفت بڑھ جاتی ہے اور  محبت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔تمام پیشوں اور فضائل کا یہی حال ہے ۔
	بعض اوقات کوئی عام آدمی سنتا ہے کہ فلان مصنف ہے اور اس کی تصنیف اچھی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ تصنیف میں ہے کیا؟ جس کی وجہ سے اس کو مجمل معرفت ہوتی ہے اور اسی اعتبار سے اس کی طرف میلان بھی اجمالی سا ہوتا ہےاور جب کوئی ماہر شخص اس تصنیف کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے عجائبات پر مطلع ہوتا ہے تو لازمی طور پر اس کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ فن،شعر اور تصنیف کے عجائبات فاعل اور مصنف کے کمالِ صفات پر دلالت کرتے ہیں اور سارے کا سارا عالَم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صنعت اور اس کی تصنیف ہے عام آدمی صرف اس بات کو جانتا اور اس کا اعتقاد رکھتا ہے جبکہ صاحبِ بصیرت تو صنعَتِ الٰہی کی تفصیل میں غور و فکر کرتا ہے حتی کہ وہ مچھر کے اندر اتنے عجائباتِ صنعت دیکھتا ہے کہ اس کی عقل حیران اور دنگ رہ جاتی ہے اور اس کے سبب لامُحالہ دل میں ذاتِ باری تعالٰی، اس کے جلال اور کمالِ صفات کی عظمت بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے محبَّتِ الٰہی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔پھر جیسے جیسے صنعَتِ الٰہی کے عجائبات پر اطلاع بڑھتی ہے تو اس سے ذاتِ باری تعالٰی اور اس کے جلال کی عظمت پراستدلال کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے معرفت بڑھتی ہے اور اس کے بڑھنے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس معرفت یعنی صنعتِ الہٰیہ کے عجائبات کی معرفت کا سمندر نا پیدا کنار ہے اسی لئے محبت میں اہْلِ معرفت کا مختلف ہونابھی ناقابل شمار ہے۔ پھر جن اسباب کی وجہ سے محبت میں تفاوت ہوتا ہے وہ اُن پانچ اسباب کا اختلاف ہے جو ہم محبت کے لئے بیان کر چکے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت اس لئے کرے کہ وہ اس پر احسان اور انعام کرتا ہے لیکن اس کی ذات کی وجہ سے اس سے محبت نہ  کرے تو اس کی محبت کمزور ہے کیونکہ احسان کے بدلنے سے محبت بدل جاتی ہے جیساکہ آزمائش کی حالت میں ویسی محبت نہیں ہوتی جیسی محبت، رضا اور نعمت کی حالت میں ہوتی ہے لیکن جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کی ذات کی  وجہ سے اور اس وجہ سے محبت کرتا ہے کہ وہی ذات اپنے کمال،جمال،بُزرگی اورعظمت کی وجہ سے محبت کی مستحق ہے تو اس کی محبت احسان کے بدلنے سے نہیں بدلتی۔ اس طرح کی باتیں محبت میں لوگوں کے مختلف ہونے کا سبب ہیں اور محبت میں مختلف ہوناہی سعادتِ اُخروی میں مختلف ہونے کا سبب ہے۔