Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
81 - 784
 ہوتے ہیں نہ ان کا کوئی فاسد معنیٰ خیال میں لاتے ہیں بلکہ سرِ تسلیم خم کرتے ہیں ، تصدیق کے طور پر ایمان لائے اور بحث و مباحثہ کے بغیر عمل میں مشغول ہوتے ہیں یہی لوگ سلامتی والے اور اصحابِ یمین میں سے ہیں اورفاسدمعنیٰ خیال کرنے والے گمراہ ہیں جبکہ حقیقت سے واقف لوگ مُقَرَّبِیْنِ بارگاہ ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تینوں اقسام کے لوگوں کا ذکراس  طرح فرمایا ہے:
فَاَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾ فَرَوْحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ﴿۸۹﴾(پ۲۷،الواقعة:۸۸، ۸۹)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر وہ مرنے والا اگر مقرّبوں سےہے تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ۔(1) 
تفاوُتِ محبت کو مثال سے سمجھئے:
	اگر تم تفاوتِ محبت کو بغیر مثال کے نہیں سمجھ سکتے تو ہم ایک مثال سے بیان کرتے ہیں جیسےحضرت سیّدُنا  امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے پیرو کار خواہ فقہا ہوں یا عوام سب کے سب اُن سے محبت کرنے میں مشترک ہیں کیونکہ امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے فضل و کمال،دینداری،حُسنِ سیرت اور خصالِ حمیدہ کی معرفت میں سب مشترک ہیں لیکن عام آدمی کو ان کے علم کی اجمالی معرفت ہوگی جبکہ فقیہ اس کو تفصیل کے ساتھ جانتا ہے۔ اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں فقیہ کی معرفَتِ تام اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے خوشی اور محبت زیادہ ہو گی کیونکہ جو شخص کسی مصنف کی تصنیف دیکھے اور اس کو اچھا سمجھے اور اس کی وجہ سے اس کا فضل جانے تو لازمی طور پر وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی طرف میلانِ قلبی رکھتا ہے اور اگر کوئی دوسری تصنیف دیکھے جو اس سے زیادہ اچھی اور عمدہ ہو تو لازمی طور پر اس کی محبت میں اضافہ ہوگا کیونکہ اس کے علم کی وجہ سے اس کی معرفت میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح جب آدمی کا کسی شاعر کے بارے میں عقیدہ ہو کہ وہ عمدہ شاعر ہے تو اس سے محبت کرتا ہے اور جب اس سے نادر  اور عمدہ قسم کے اشعار سنے جس سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مکمل مضمون  یوں ہے : وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنۡ اَصْحٰبِ الْیَمِیۡنِ ﴿ۙ۹۰﴾ فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیۡنِ ﴿۹۱﴾ؕ وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیۡنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۹۳﴾ وَّ تَصْلِیَۃُ جَحِیۡمٍ ﴿۹۴﴾
ترجمۂ کنز الایمان:ور اگر دہنی طرف والوں سے ہو تو اے محبوب تم پر سلام ہے دہنی طرف والوں سے اور اگر جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہو تو اس کی مہمانی کھولتا پانی اور بھڑکتی آ گ میں دھنسانا۔(پ۲۷،الواقعہ:۹۰ تا۹۴)