اس لئے مربع شکل کو چھوڑ دیا تاکہ زاویے خالی نہ رہ جائیں پھر اگر گول شکل میں گھر بناتی تو اس کے باہر ضائع رہ جانے والی کشادگی باقی رہتی کیونکہ گول شکلوں کو جب ملایا جائے تو وہ اتصال کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں اور زاویوں والی اشکال میں کوئی شکل ایسی نہیں جو گنجائش میں گول شکل کے قریب ہو اور جب اس کو ملایا جائے تو کشادگی بھی نہ بچے سوائے مسدس کے اور یہ خاصیت اسی شکل کی ہے۔
غور کرو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شہد کی مکھی کو اس کے چھوٹے ہونے کے باوُجود محض اس پر لُطف و کرم کرتے ہوئے ان چیزوں کے بارے میں کیسے بتا دیا جن کی اسے حاجت ہے تا کہ وہ چین سے رہے۔تو اس حقیر سے حیوان میں قدرت کے ان کرشموں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرو اور زمین وآسمان کی سلطنت کے عجائبات کو جانے دوکیونکہ جس قدر پر ہماری ناقص عقل کو رسائی ہوئی اس کی وضاحت کرنے میں عمریں گزر جائیں جبکہ ہمارے علم کو حضراتِ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اورعلمائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے علم کے ساتھ کوئی نسبت نہیں اور تمام مخلوق کے علم کو عِلْمِ الٰہی کے ساتھ کچھ نسبت نہیں بلکہ مخلوق جو کچھ جانتی ہے اس کو علمِ الہٰی کے سامنے علم بھی نہیں کہا جاسکتا۔
حاصل یہ کہ اس جیسی باتوں میں غور و فکر کرنے سے اس معرفت میں اضافہ ہوگا جو دونوں طریقوں میں سےآسان طریقے سے حاصل ہوتی ہے اور معرفت بڑھنے سے محبت بڑھتی ہے ۔پس اگر تم دیدارِالٰہی کی سعادت کے طالب ہو تو دنیا کو پَسِ پُشت پھینک دو اور عمر بھر دائمی غور و فکر میں مُسْتَغَرَق ہو جا ؤ۔ممکن ہے تمہیں کچھ نہ کچھ مل جائے لیکن تم اس تھوڑی سی چیز کے بدلے میں ایسی بادشاہت پاؤ گے جس کی انتہا نہیں۔
ساتویں فصل: محبّت میں لوگوں کے مختلف ہونے کا سبب
جان لیجئے کہ اصْلِ ایمان میں اِشْتِراک کی وجہ سے تمام مومن اصْلِ محبت میں مشترک ہوتے ہیں لیکن معرفَتِ الٰہی اور حُبِّ دنیا میں مختلف ہونے کی وجہ سے وہ محبَّتِ الٰہی میں بھی مختلف ہوتے ہیں کیونکہ اشیاء اسباب کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہی مختلف ہوتی ہیں اور اکثرلوگ تو ایسے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جو اسما اور صفات ان کے کانوں میں پڑتے ہیں ان کو سیکھ کر یاد کر لیتے ہیں اور بعض اوقات ان کے ایسے معانی خیال کر لیتے ہیں جن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ومُنَزہ ہے ۔ بعض لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اسما اور صفات کی حقیقت پر مُطَّلَع