عجائبات ہیں کہ اگر سب پہلے اور بعد والے لوگ مل کر اس کی گہرائی کا احاطہ کرنا چاہیں تو اس کی حقیقت تک پہنچنے سے عاجز رہیں اور اس کی ظاہری صورت کے واضح اور روشن اُمور پر بھی مطلع نہ ہوسکیں اور جہاں تک اس کے مخفی اُمور کا تعلق ہے اس پر تو صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات ہی باخبر ہے۔
شہد کی مکھی میں عجائبات:
پھر ہر حیوان اور پودے میں ایسے عجائبات ہیں جو اسی کے ساتھ خاص ہیں اور ان میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں مثلاً شہد کی مکھی اور اس میں موجود عجائبات کی طرف دیکھوکہ کیسے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ پہاڑوں، درختوں اور گھروں میں چھتے بناتی ہے اور کیسے اس کے لُعاب سے موم اور شہد نکلتا ہے۔ ان میں سے ایک کو روشنی کا ذریعہ اور دوسرے کو شفا بنایا۔ پھر اگر تم اس کی عجیب باتوں میں غور کرو کہ وہ صرف پھولوں اور کلیوں کا رس چوستی ہیں اور نجاست و گندگی سے اجتناب کرتی ہیں اور اپنے میں سے ایک(ملکہ مکھی) کی اطاعت کرتی ہیں جو جسمانی اعتبار سے بڑی ہوتی ہے اور وہی ان کی امیر ہوتی ہے ۔پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی امیر کو اس بات کاپابند کیا ہے کہ وہ ان میں عدل و انصاف کرے حتی کہ اگر ان میں سے کوئی نجاست پر بیٹھتی ہے تو اس کو چَھتّے کے دروازے پر ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔پس تم انتہائی تعجب کرو بشرطیکہ تم اپنی ذات میں غورو فکر کرنے والے اور اپنے پیٹ اور شرم گاہ کی فکروں سے فارغ ہو نیز اپنے ہم عصروں کے ساتھ عداوت اور مسلمان بھائیوں کے ساتھ محبت کرنے میں اپنے نفس کی خواہشات سے خالی ہو۔
شہد کا چَھتّا مُسَدَّس کیوں ہوتاہے؟
بیان کردہ سب باتوں سے قطع نظر اس بات پرغور کرو کہ وہ کیسے موم سے اپنا چھتا بناتی ہیں اور تما م اشکال میں سے مسدس شکل کو اختیار کرتی ہیں۔وہ اپنا گھر گول،مُرَبَّع اورمُخَمَّس شکل میں نہیں بناتیں بلکہ مسدس شکل میں بناتی ہیں کیونکہ مسدس شکل کی ایک خاص وجہ ہے جس کا ادراک کرنے سے انجینئرزکی عقلیں بھی قاصر ہیں۔وہ خاص وجہ یہ ہے کہ سب شکلوں سے وسیع اور جامع شکل دائرے کی اور جو اس کے قریب ہواس کی ہے۔اس لئے کہ مربع سے نکلنے والے زاویے بیکار ہوتے ہیں اور مکھی کی شکل گول اور لمبی ہوتی ہے