گردو غبار کے وقت ان پر جال بن جائیں،اسی لئے پلکوں کے جال کے پیچھے سے نظرآتا ہے اور یہ جال گردو غبار کوآنکھ میں داخل ہونے سے روکتا ہے لیکن دیکھنے میں رُکاوٹ نہیں بنتا۔ انسان کے برعکس مچھر کے دو صاف شفاف ڈھیلے بغیر پپوٹوں کے بنائے اور دونوں ہاتھوں سے صاف کرنے کا طریقہ بھی اس کو سکھا دیااور چونکہ اس کی بصارت میں ضعف ہوتا ہے اس لئے چراغ پر گر پڑتا ہےلہٰذا دن کی روشنی تلاش کرتا ہے اور جب یہ بیچارہ رات میں چراغ کی روشنی دیکھتا ہے تو خود کو کسی تاریک گھر میں خیال کرتا ہے اور چراغ کو روشن دان سمجھتا ہے جو تاریک مکان سے روشنی کی طرف نکالا گیا ہے۔ وہ روشنی کی طلب میں خود کومسلسل چراغ پر گراتا رہتا ہے جب وہ چراغ سےآگے گزرتا ہے اور اندھیرا پاتا ہے تو گمان کرتا ہے کہ وہ روشن دان کو نہیں پاسکااور اس کی سیدھ میں نہیں گیااس لئے دوبارہ چراغ کی طرف لوٹتا ہے حتّٰی کہ جل جاتا ہے۔
مچھرکی جہالت سے بڑی جہالت:
شاید تم گمان کرو کہ یہ فعل اس کے نقصان اور جہالت کی وجہ سے ہےتو یادرکھو کہ انسان کی جہالت اس کی جہالت سے بڑھ کر ہے بلکہ دنیاوی خواہشات پر گرنے میں آدمی کی صورت ویسی ہی ہے جیسی پروانے کی صورت آگ میں گرنے کی ہے کیونکہ آدمی کے لئے خواہشات کی روشنی ظاہری صورت کے اعتبار سے چمکتی ہے اور اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے نیچے زہرقاتل ہے تو وہ اپنے نفس کومسلسل اس پر گراتا رہتا ہے حتی کہ ان خواہشات میں ڈوب جاتا ہے اور ان کا اسیر بن کر ہمیشہ کے لئے ہلاک ہوجاتا ہے۔ اے کاش !آدمی کی جہالت پروانے جیسی ہوتی کیونکہ پروانہ ظاہری روشنی سے دھوکا کھا کر اگر جل جائے تو فی الحال اس کاقصہ تمام ہوگیا جبکہ آدمی تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یامدتوں جہنم کی آگ میں رہے گا۔ اسی لئے رسولِ اکرم،شفیعمُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:’’اِنِّیْ مُمْسِکٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَ اَنْـتُمْ تَتَھَافَـتُوْنَ فِیْھَا تَھَـافُتَ الْفِرَاشِیعنی میں تمہارا کمربند پکڑ ے تمہیں آگ سے بچا رہا ہوں اورتم پروانوں کی طرح پے درپےآگ میں گرنا چاہتے ہو۔“(1)
یہ انتہائی چھوٹی مخلوق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عجائبِ صنعت میں سے ایک کرشمہ ہے اور اس میں اتنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصی، ۴/ ۲۴۳،حدیث:۶۴۸۳
مسند البزار، مسند عمر بن الخطاب،۱/ ۳۱۴،حدیث:۲۰۴