اس کے پر اُگائے،اس کے ہاتھ اور پاؤں نکالے،اس کے کان اورآنکھیں پیدا کیں اور باقی تمام حیوانات کی طرح اس کے اندر بھی غذا کے اعضاء اورآلات کی تدبیر فرمائی اور تمام حیوانات کی طرح اس میں بھی قوتِ غاذِیہ، جاذِبہ، دافِعہ، ماسِکہ اور ہاضمہ پیدا فرمائی۔یہ تو شکل و صورت اور صفات کا معاملہ تھا پھریہ دیکھو کہ کیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے اس کی غذا کی راہ بتائی اور اس کو پہچان دے دی کہ اس کی غذا انسانی خون ہے۔ پھریہ دیکھو کہ اُس نے کس طرح آدمی تک پہنچنے کے لئے اس میں اُڑنے کی قوت پیدا کر دی،کیسے اس کی لمبی اور نوکیلی تھوتھنی بنائی،کیسے اس کو انسانی کھال کے مَساموں کی راہ بتائی کہ ان میں سے کسی ایک میں اپنی سونڈ رکھے۔پھر اس کو کیسی قوت دی کہ مسام میں اپنی سونڈ پیوست کر دیتا ہے اور کیسے اس کو خون چوسنے اور پینے کا طریقہ بتا دیااور سونڈ کو باریک ہونے کے باوجود کس طرح کھوکھلا پیدا کیا کہ اس کے ذریعے خون پتلا ہوکر اس کے پیٹ میں پہنچتا ہے اور تمام اجزاء میں پھیل کر اس کو غذا دیتا ہے۔پھر کیسے اس کو بتا دیا کہ انسان اپنے ہاتھ سے اس کو مارنا چاہتا ہے تو بھاگنے کا حیلہ سکھا دیا اور اس کے اسباب بھی عطا کر دیئے۔اس کے کان بنائے جن سے وہ ہاتھ کے دور ہونے کے باوجوداس کی ہلکی سی حرکت بھی سن لیتا ہے اورخون چوسنا چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے ،پھر جب ہاتھ ٹھہر جاتا ہے تو دوبارہ آجاتا ہے۔
مچھر اور دیگر حیوانات کی آنکھوں میں فرق:
پھر غور کرو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کیسے اس کی آنکھوں کے دو ڈھیلے بنائے کہ وہ اپنی غذا کی جگہ دیکھ لیتا ہے اور چہرہ چھوٹا ہونے کے با وجود اس جگہ کا قصد کرتا ہے اور دیکھو کہ ہر چھوٹے جانور کی آنکھ کا ڈھیلا چھوٹے ہونے کی وجہ سے پپوٹوں کا متحمل نہیں ہوتا اور پپوٹے ڈھیلوں کے لئے خس و خاشاک سے صفائی کاآلہ ہیں لہٰذا مچھر اور مکھی کے دو بازوں بنا دیئےتو تم ہمیشہ مکھی کواپنے دونوں بازوؤں سے اپنے ڈھیلے صاف کرتے دیکھو گے۔
انسان اور بڑے جانوروں کے ڈھیلوں کے لئے پپوٹے پیدا کئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں اور ان کے کنارے باریک بنائے تا کہ جو غبار ڈھیلے پرآئے اس کو جمع کر کے پلکوں کے کناروں پر پھینک دیں اور پلکیں سیاہ بنائیں تاکہ آنکھ کی روشنی مجتمع رہے، دیکھنے میں مدددیں،آنکھ کی صورت کو حسین بنائیں اور