نظر کرتے ہیں۔چنانچہ ملائکہ اورآسمانوں کی سلطنت کے اعتبار سے مخلوقات میں سب سے کم تر زمین اور اس کے اوپر پائی جانے والی چیزیں ہیں کیونکہ اگر تم زمین کو اس کے جسم اور حجم کے اعتبار سے دیکھو تو سورج کم حجم نظرآنے کے با وجودزمین سے ایک سو ساٹھ گنا سے زیادہ بڑا ہے تو غور کرنا چاہئے کہ سورج کی بنسبت زمین کس قدر چھوٹی ہے۔ پھر جس فلک میں سورج مرکوز ہے اس کی نسبت سورج کا چھوٹاہونادیکھوکیونکہ سورج کو فلک کے ساتھ کوئی نسبت نہیں حالانکہ یہ چوتھےآسمان میں ہے اور چوتھاآسمان اپنے سے اوپر آسمانوں کی نسبت چھوٹا ہے۔ پھر ساتوں آسمان کرسی کی نسبت ایسے ہیں جس طرح میدان میں کوئی ذرہ پڑا ہو یہی نسبت کرسی کو عرش کے ساتھ ہے۔
سمند ر کے مقابلے میں خشکی کی مثال:
یہ باعتبار حجم کے ان کے ظاہری اجسام کی طرف نظر کرنا ہوااور تمام زمین ان کی بنسبت کتنی حقیر ہے بلکہ سمندروں کی بنسبت بھی زمین کتنی چھوٹی ہےاس کے متعلق مروی ہے کہ’’اَلْاَرْضُ فِی الْبَحْرِ کَا لْاِصْطَبْلِ فِی الْاَرْضِ یعنی زمین سمندر کی نسبت ایسے ہے جیسےزمین کے مقابلے کوئی اصطبل ہو۔“
تجربہ اور مشاہدہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔معلوم ہوا زمین کا جو حصہ پانی سے باہر ہے اس کو تمام کرۂ اَرض کے ساتھ وہ نسبت ہے جو ایک چھوٹے سے جزیرے کو تمام خشکی کے ساتھ ہے۔ پھرآدمی کو دیکھو جو مٹی سے پیدا کیا گیا اور مٹی زمین کا ایک جز ہے اور اسی طرح تمام حیوانات کہ زمین کی نسبت کس قدر چھوٹے ہیں۔
مچھر کی تخلیق میں عجائبات:
تم بیان کردہ ان سب چیزوں کو بھی جانے دو اورحیوانات میں جس کو ہم سب سے چھوٹا سمجھتے ہیں وہ مچھر اور شہد کی مکھی وغیرہ ہیں۔ مچھر کے چھوٹے سے جسم کی طرف دیکھو اور عقلِ حاضر و فکرِ صافی کے ساتھ اس میں غور کرو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کو کس طرح سب سے بڑے جانور ہاتھی کی شکل پر پیدا فرمایا کہ ہاتھی کی طرح اس کی بھی ایک سونڈ بنائی اور چھوٹی سی شکل ہونے کے باوجود اس کے لئے وہ تمام اعضاء پیدا کئے جو ہاتھی کے لیے پیدا کئے اوراسے دو پَر زیادہ دیئے۔ غور کرو! اس کے ظاہری اعضاء کو کس طرح تقسیم کیا کہ