ایک سوال اور اس کا جواب:
اگرتم کہوکہ بیان کردہ دونوں طریقےمشکل ہیں،لہٰذا ہمیں کوئی ایسی صورت بتائی جائےجس سے معرفَتِ الٰہی میں مدد ملے اور محبتِ خداوندی تک پہنچا جا سکے؟
جواب :اعلیٰ طریقہ حق سبحانہ و تعالٰی کی معرفت سے تمام مخلوق کی معرفت حاصل کرنا ہے لیکن یہ بہت پیچیدہ ہے اور اس بارے میں گفتگو کرنا اکثر لوگوں کی سمجھنے کی حد سے خارج ہے ۔عقلیں اس کو سمجھنے سے صرف اس لئے قاصر ہیں کیونکہ لوگوں نے تدبرکو چھوڑرکھا ہے۔ دنیاوی خواہشات اور نفسانی لذّات میں مشغولیت ہے اور اس کو بیان کرنے سے یہ بات رکاوٹ ہے کہ یہ گفتگوبہت وسیع اور زیادہ ہے اور اس کے ابواب اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ حد اور شمار سے باہر ہیں کیونکہ آسمانوں کی بلندیوں سے لے کر زمین کی گہرائیوں تک ہر ذرے میں عجائبات اور نشانیاں ہیں جو اس ذات ِ کریم کی کمالِ قدر ت و حکمت اور اس کے انتہائی جلال و عظمت پر دلالت کرتے ہیں اور ذَرّات بے انتہا ہیں۔
قُلۡ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ(پ۱۶،الکھف:۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرمادواگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہو ں گی۔
حصولِ معرفت کاآسان طریقہ:
لہٰذا اس میں غور و فکر کرنا عُلومِ مکاشَفہ کے سمندروں میں غوطہ لگانا ہے اور علومِ معامَلہ کے طفیلی کی حیثیت سے اس کو بیان نہیں کیا جا سکتالیکن مختصر طور پر ایک مثال کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تا کہ اس کی جنس پر تنبیہ ہو جائے۔چونکہ بیان کردہ دونوں طریقوں میں سےآسان طریقہ افعال کی طرف نظر کرنا ہے اس لئے ہم اعلیٰ طریقے سے صرفِ نظر کرتے ہوئےآسان طریقے کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ۔
سورج کا حجم اور اس کا مکان:
افعالِ الہٰیہ کثیر ہیں تو ہم ان میں سے سب سے کم تر،خفیف اور چھوٹے فعل کو تلاش کر کے اس میں