کسی عارف سے پوچھا گیا کہ”آپ نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کو کیسے پہچانا؟“تو انہوں نے اسی لحاظ سے جواب دیا:”میں نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کو اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ سے ہی پہچانا ہے اگر میرا رب عَزَّ وَجَلَّ نہ ہوتا تو میں اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو نہ پہچان سکتا۔“
دوسری قسم کی طرف درج ذیل آیاتِ مُبارَکہ میں اشارہ ہے:
(1)…سَنُرِیۡہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ ؕ(پ۲۵، حم سجدة:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں اور خود ان کے آپے میں یہاں تک کہ ان پر کُھل جائے کہ بے شک وہ حق ہے۔
(2)…اَوَلَمْ یَنۡظُرُوۡا فِیۡ مَلَکُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ (پ۹،الاعراف:۱۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا انہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں۔
(3)…قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِؕ (پ۱۱،یونس:۱۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ دیکھوآسمانوں اور زمین میں کیا کیا ہے۔
(4)…الَّذِیۡ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ ہَلْ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ﴿۳﴾ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبْ اِلَیۡکَ الْبَصَرُ خَاسِـًٔا وَّ ہُوَ حَسِیۡرٌ﴿۴﴾(پ۲۹،الملک:۳ تا۴)
ترجمۂ کنز الایمان: جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسراتو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تونگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ(خرابی وعیب) نظرآتا ہے پھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی۔
یہی راستہ اکثر لوگوں پرآسان ہے اور اسی میں سالکین کے لیے زیادہ وسعت ہے اور قرآن کریم بھی اکثراسی کی دعوت دیتا ہے جیساکہ کثیرآیات میں تدبُّر،تفکراور عبرت پکڑنے کا حکم ہے ۔