یہاں پاکیزہ کلام سے مراد معرفت ہے۔ پس عمَلِ صالح اس معرفت کے حق میں جمال اور خادم کی طرح ہے اورہر عمَلِ صالح اوّلاً دل کو دنیا سے پاک کرنے پھر اس کی پاکی کو باقی رکھنے کے لئے ہے ، عمل صرف اس معرفت کے لئے مقصود ہوتا ہے اور رہا عمل کی کیفیت کا علم تو وہ عمل کے لئے مطلوب ہوتا ہے،لہٰذا علم اوّل بھی ہے اورآخر بھی۔
اوّل علم مُعاملہ ہے جس سے عمل مقصود ہوتا ہے اور معاملہ یعنی عمل کی غرض قلبی صفائی اور پاکی ہے تاکہ اس میں تَجَلِیٔ حق واضح ہو اور عِلْمِ معرفت سےآراستہ ہو اوریہ عِلْمِ مُکاشَفہ ہے۔ پھر جب یہ معرفت حاصل ہوجائے گی تو اس کے بعد محبت لازمی طور پر ہوگی جس طرح ایک معتدل مزاج شخص جب کوئی خوبصورت چیز دیکھے اور ظاہری آنکھوں سے اس کا اِدراک کرے تو اس سے محبت کرے گا اور اس کی طرف مائل ہوگااورجب اس سے محبت کرے گا تو لذّت حاصل ہوگی۔ پتا چلاکہ محبت کے پیچھے لذّت ضرور ہوتی ہے اور معرفت کے بعدمحبت ضرور ہوتی ہے اور دل سے تمام دنیاوی مشاغل ختم کرنے کے بعد اس معرفت تک خالص فکر، دائمی ذکر، طلب کی انتہائی جستجواور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصفات، زمین وآسمان کے ملکوت اور اس کی تمام مخلوق میں دائمی غور و فکر کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔
درجَۂ معرفت تک پہنچنے والوں کی اقسام:
اس مرتبے تک پہنچنے والوں کی دو اقسام ہیں:(۱)…قوی (۲)…ضعیف۔قوی سب سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل کرتے ہیں پھر معرفَتِ الٰہی کے ذریعے مخلوق کو پہچانتے ہیں اورضعیف پہلے افعال کی معرفت کرتے ہیں پھر افعال سے فاعل کی طرف ترقی کرتے ہیں۔پہلی قسم کی طرف اِن دو فرامین باری تعالٰی میں اشارہ ہے:
(1)…
اَوَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾ (پ۲۵،حم سجدة:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں۔
(2)…
شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۙ (پ۳،اٰل عمرٰن:۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔