Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
72 - 784
	دل سے حُبِّ دنیا ختم کرنے کی صورت زُہد کے راستے پر چلنا اور صبر اختیار کرنا ہے اور خوف و امید کی لگام سے ان دونوں ( زُہد اور صبر)کا مطیع ہونا ہے۔پس جو مقامات ہم نے ذکر کئے جیسے توبہ،صبر،زُہد،خوف اور رَجا(امید) وغیرہ یہ مقدمات ہیں تا کہ ان کے ذریعے محبت کے دو ارکان میں سے ایک کو حاصل کیا جا سکے اور وہ دل کو غیر اللہ سے خالی کرناہے۔ اس کی ابتدا اللہ عَزَّ وَجَلَّ، یومِ آخرت ، جنت اور جہنم پر ایمان لانا ہے پھر اس سے خوف و رَجا پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان دونوں سے توبہ اور خوف و رَجا پر صبرکا ظہور ہوتا ہے۔ پھر یہ صبردنیا، مال، مرتبہ اور تمام دنیاوی فوائد سے بے رغبتی اختیار کرنے کی طرف لے جاتا ہےحتّٰی کہ ان تمام باتوں کی وجہ سے دل صرف غیر اللہ کی محبت سے پاک ہوتا ہے، اس کے بعد دل میں معرفتِ الٰہی اور محبت خداوندی آنے کی گنجائش ہوجاتی ہے۔ پس یہ تمام اُمور قلبی طہارت کے مقدمات ہیں اور طہارتِ قلبی محبت کے دو ارکان میں سے ایک ہے اور حُضور اَکرم،نورِ مجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان:’’اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانیعنی طہارت ایمان کا حصہ ہے۔“(1) میں اسی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ ہم”طہارت کےبیان“ کے شروع میں بیان کر چکے ہیں۔
دوسرا سبب :
	محبَّتِ الٰہی کے پختہ ہونے کا دوسرا سبب معرفَتِ الٰہی  کی پختگی، وسعت اور اس کا دل پر غالب ہونا ہے اور یہ دل کو تمام دنیاوی مشاغل اور علائق سے پاک کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے زمین کو گھاس وغیرہ سے صاف کرنے کے بعداس میں بیج ڈالا جائے یہ محبت کا دوسرا رکن ہے پھر اس بیج سے محبت اور معرفت کا درخت پیدا ہوتا ہے اور یہی پاکیزہ کلمہ ہے جس کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ مثال بیان فرمائی:
ضَرَبَ اللہُ مَثَلًاکَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیۡ السَّمَآءِ﴿ۙ۲۴﴾(پ۱۳،ابراھیم:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں۔
	ایک جگہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:
اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ  ؕ (پ۲۲،فاطر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…مسلم، کتاب الطہارة، باب فضل الوضوء،ص۱۴۰،حدیث:۲۲۳