الْھَوٰییعنی زمین پر پوجا جانے والاسب سے بُرا معبود خواہِشِ نفس ہے ۔“(1)
اسی لئے پیارےآقا، دوعالَم کے داتاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’مَن قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَـنَّة یعنی جس نے اخلاص کے ساتھ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔“(2)
اور اخلاص کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اپنے دل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے خالص کرے کہ اس میں غیر کی شرکت باقی نہ رہے اور اس کے دل کا محبوب،معبود اور مقصود فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہواور جس کا حال یہ ہوتاہے دنیا اس کے لئے قیدہوتی ہے کیونکہ یہ مشاہدہ ٔمحبوب سے رکاوٹ ہوتی ہے اور اس کی موت قید سے خلاصی اور محبوب کے پاس جانے کا ذریعہ ہے تو جس کا ایک ہی محبوب ہو اور وہ اس کا دیرینہ مشتاق ہو پھر عرصہ دراز سے قید میں بھی ہو اب جو قید سے چھوٹے اور لقائے محبوب پر قادر ہو اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امن چین میں رہےتو اس کاحال کتنا اچھا ہوگا۔
محبَّتِ دنیا محبَّتِ الٰہی کو کمزور کرتی ہے:
دلوں میں محبَّتِ الٰہی کے کمزور ہونے کا ایک سبب محبتِ دنیا کی پختگی ہے اور اس میں اہل، مال، اولاد، اَقارب،جائیداد،چوپائے،باغات اور تفریحی مقامات کی محبت بھی شامل ہے حتّٰی کہ جو شخص پرندوں کی خوش آوازی اور نسیْمِ سحرکے جھونکوں سے لطف اندوز ہوتا ہے وہ بھی دنیاوی نعمتوں کی طرف متوجہ ہے جس کی وجہ سے وہ محبَّتِ الٰہی میں کمی کے درپے ہوتا ہے تو جس قدر دنیا سے مانوس ہوگا اسی قدر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُنسیّت کم ہوگی اور جس قدر انسان کو دنیا میں دیا جاتا ہے اسی قدرآ خرت میں سے کم کر دیا جاتا ہے۔جس طرح انسان مشرق کے جتنا قریب آئے گا لازمی طور پر اتنا ہی مغرب سے دور ہوجائے گا اور جتنا اس کی ایک بیوی کا دل خوش ہوتا ہے اتنا ہی اس کی سَوتن کا دل تنگ ہوتا ہےاور دنیااورآخرت دو سوتنیں ہیں اور دونوں مشرق اور مغرب کی طرح ہیں اور اہْلِ دل کے لئے یہ بات یقینی طور پر آنکھ کے مشاہدے سے بھی زیادہ واضح اور منکشف ہوتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر،۸/ ۱۰۳،حدیث:۷۵۰۲،تحت ظل السمآء
الکامل فی ضعفاء الرجال،۳/ ۵۲۲،الرقم:۶۱۸،تحت ظل السمآء،خَصِیْب بن جَحْدِرالبصری
2…المعجم الکبیر،۵/ ۱۹۷، حدیث:۵۰۷۴