حصولِ عشق کے دوسبب
پہلا سبب:
دنیاوی علائق سے الگ ہونا اور دل سے غیر اللہ کی محبت نکال دیناکیونکہ دل کی مثال برتن کی سی ہے کہ جب تک اس سے پانی نہیں نکالا جائے گا تب تک سِرکہ ڈالنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔
مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلْبَیۡنِ فِیۡ جَوْفِہٖ ۚ (پ۲۱،الاحزاب:۴) ترجمۂ کنز الایمان:اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔
اور کمالِ محبت اس میں ہے کہ اپنے پورے دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکو چاہےاور جب تک غیر کی طرف توجہ کرے گا تو اس کے دل کا ایک زاویہ غیر کے ساتھ مشغول رہے گالہذا جس قدر غیر اللہ کے ساتھ مشغول ہوگا اسی قدر محبَّتِ الٰہی میں کمی ہوگی کیونکہ جس قدر پانی برتن میں باقی رہتا ہے اسی قدر سرکہ کم اُنڈیْلا جاتا ہے اوراسی فراغت اور خلوت کی طرف قرآنِ پاک میں یوں اشارہ کیا گیا ہے:
قُلِ اللہُ ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِیۡ خَوْضِہِمْ (پ۷،الانعام:۹۱) ترجمۂ کنز الایمان:اللہکہو پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں۔
نیز ارشاد فرمایاگیا:
اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوۡا (پ۲۶،الاحقاف:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا ربّ اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے۔
بلکہ تم جو یہ کہتے ہو ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘اس کا بھی یہی معنی ہے کہ ذاتِ باری تعالی کے سوا کوئی معبود اور محبوب نہیں۔ کیونکہ ہر محبوب معبود ہوتا ہے اس لئے کہ عَبْد مُقیَّد ہوتا ہے اور مقید بہ (یعنی مقید جس کی قیدمیں ہووہ) معبود ہوتا ہے اور ہر محب اپنے محبوب کی قید میں ہوتا ہےجیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ (پ۱۹،الفرقان:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنے جی کی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا۔
اور سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اَبْغَضُ اِلٰہٍ عُبِدَ فِی الْاَرْضِ