Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
69 - 784
لیکن اہْلِ بصیرت نہ تو اس کی طرف توجہ کرتے ہیں اور نہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں بلکہ عقلمند پھل کھاتا ہے پیڑ کے بارے میں سوال نہیں کرتا اور جو اپنے محبوب کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو اس کا عشق اس بات کی طرف توجہ دینے سے اس کو باز رکھتا ہے کہ محبوب کا دیدارآنکھ سے ہوگا یا پیشانی سے؟ بلکہ اس کی غرض دیدارِ محبوب اور اس کی لذّت ہے چاہے وہ آنکھ سے حاصل ہو یا کسی دوسرے عضو سے۔کیونکہ آنکھ تو ایک محل اور ظرف ہے نہ یہ دیکھتی  ہے اور نہ اس کا کوئی اعتبار ہے اور اس میں حق بات یہ ہے کہ قدرتِ اَزَلِیَّہ وسیع ہے، اس لئے ہمیں قدرت پر یہ حکم لگانا جائز نہیں کہ دونوں (آنکھ اور دل)میں سے ایک رویت سے قاصر ہے (بلکہ رُویت دونوں سے ہو سکتی ہے) یہ جوازکی صورت ہے ۔  بہر حال آخرت میں دونوں جائز صورتوں میں سے واقع کون سی ہوگی تو یہ شارع عَلَیْہِ السَّلَام سے سنے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی اور حق وہی ہے جو شرعی دلائل کی روشنی میں اہل سنت وجماعت کے لیے ظاہر ہوا کہ” دیدارِ الٰہی آنکھ سے ہوگا۔“(1) لفظ رویت،نظر اور شریعت میں وارد تمام الفاظ سے ان کے ظاہری معنیٰ ہی مراد ہوتے ہیں  کیونکہ لفظ کو بغیر ضرورت کے ظاہری معنیٰ سے دوسری طرف پھیرنا جائز نہیں۔ وَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ(اور اللہ عَزَّ وَجَلَّہی بہتر جانتا ہے)
چھٹی فصل:	          محبتِ الٰہی کو پختہ کرنے والے اسباب کا بیان
	جان لیجئے کہ  سب سے زیادہ سعادت مند شخص آخرت میں وہ ہوگا جس کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت سب سے زیادہ قوی ہوگی کیونکہ آخرت کا مطلب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں حاضر ہونا اور سعادتِ دیدار سے مشرف ہونا ہےاور محب کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہوسکتی ہے جب وہ دیرینہ شوق کے بعد محبوب کے پاس جائے تو اس کے لئے کوئی روک ٹوک  نہ ہو اور اِنقطاع کے خوف کے بغیر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دائمی دیدارِ محبوب پر قادر ہومگر یہ لذّت قوتِ محبت کے بقدر ہوگی تو جیسے جیسے محبت زیادہ ہوگی لذّت میں بھی  اضافہ ہوگا اور بندہ دنیا میں ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت حاصل کر سکتا ہے اور اصْلِ محبت سے تو کوئی مومن خالی نہیں کیونکہ اصْلِ معرفت اس سے جدا نہیں ہوتی لیکن جہاں تک تعلق ہے فرطِ محبت اور غلبَۂ محبت کا حتّٰی کہ یہ فریفتگی کی اس حد کو پہنچ جائے جسے عشق کہتے ہیں تو اکثر لوگ اس سے خالی ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…بخاری، کتاب الاذان، باب فضل السجود،۱/  ۲۸۱،حدیث:۸۰۶