Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
68 - 784
 بڑی ہوں گی جیساکہ اگر بیج کثیر اور اچھا ہو تو کھیتی زیادہ اور اچھی ہوتی ہے اور اس بیج کو دنیا میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اور اسے دل کی کھیتی میں بویااورآخرت میں کاٹا جاسکتا ہے۔ 
	رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:’’اَفۡضَلُ السَّعَادَاتِ طُوۡلُ الۡعُمۡرِ فِیۡ طَاعَةِ اللّٰہِ یعنی  سب سے افضل سعادت اطاعتِ الٰہی میں بسر ہونے والی لمبی عمر ہے ۔“(1)
	کیونکہ معرفت میں کمال،کثرت اور وسعت اسی وقت ممکن ہے جب عمر لمبی ہو ،فکراور مجاہدے پر ہمیشگی وپابندی ہو ،دنیاوی علائق سے الگ ہو اور طلبِ معرفت کے لئے خلوت ہو۔ ان تمام اُمور کے لئے لازمی طور پر وقت درکار ہوتا ہے تو جو شخص موت کو محبوب سمجھتا ہے اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنےآپ کو معرفت کے اس انتہائی مقام پر پہنچا ہوا دیکھتا ہے جس کی اسے توفیق دی گئی ہوتی ہے اور جو موت کو نا پسند کرتا ہے ا س کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ لمبی عمر کی وجہ سے زیادتِیٔ معرفت کی امید رکھتا ہے اور درازئ عمر کی صورت میں اس کی قوت جس چیز کی متحمل ہو سکتی ہے اس سے خود کو قاصر سمجھتا ہے اور اہْلِ معرفت کے ہاں موت کو نا پسند اور محبوب سمجھنے کا یہی سبب ہےاور جہاں تک باقی ساری مخلوق کا تعلق ہے تو ان کی نظریں دنیاوی خواہشات تک محدود ہوتی ہیں اگر دنیا وسیع ہوتو باقی رہنا پسند کرتےاور اگر تنگ ہو تو موت کی تمنا کرتے ہیں اور یہ دونوں باتیں محرومی اور خسارے کی ہیں اور ان کا سبب جہالت اور غفلت ہے ۔پس ہر شقاوَت کی جڑ جہالت اور غفلت ہے جبکہ ہر سعادت کی بنیادعلم اور معرفت ہے ۔
	جو گفتگو ہم نے ذکر کی اس سے تم محبت اور عشق کے معنی سمجھ گئے کہ محبت کی زیادتی اور پختگی کو عشق کہتے ہیں اور لذّتِ معرفت،رویت اور لذّتِ رویت کا معنی بھی سمجھ گئے اورتم یہ بھی سمجھ گئے کہ ارباب عقل و کمال کے نزدیک لذّتِ دیدار تمام تر لذّات سے بڑھ کر لذیذ ہے اگرچہ اہْلِ نقصان کے نزدیک ایسا نہ ہو جس طرح لذّتِ ریاست بچوں کے نزدیک کھانوں کی لذّت سے بڑھ کر نہیں ہوتی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا دیدارآنکھ سے ہوگا:
	آخرت میں دیدارِالٰہی کا محل دل ہوگا یاآنکھ ہوگی؟جان لیجئے کہ لوگوں کا اس بارے میں اختلاف ہے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی طول العمر للمؤمن،۴/  ۱۴۷،حدیث:۲۳۳۶،مفھومًا