جائے، روشنی خوب پھیل جائے اور تمام موذی جانور اس سے دور ہوجائیں اور یہ صحیح اور فارغ البال ہوجائے اور اس پر قوی شہوت اور شدتِ عشق اس طرح چھا جائے کہ انتہا کو پہنچ جائےتو غور کرو اس کی لذّت کتنی بڑھے گی حتّٰی کہ اس کی پہلی حالت کو اس کے ساتھ کوئی نسبت نہیں رہے گی ،اسی طرح لذّتِ دیدار کی نسبت لذّتِ معرفت کی طرف سمجھو۔پس باریک پردہ بدن کی مثال ہے اور شواغِلِ بدنیہ، بچھواور بھڑیں ان خواہشات کی مثالیں ہیں جو انسان پر مسلّط ہیں جیسے بھوک،پیاس،غصہ،غم اور رنج وغیرہ اور ضعفِ شہوت و محبت دنیا میں نفس کی کوتاہی اورمَلاءِ اعلیٰ کی طرف شوق کی کمی اور اَسْفَلُ السَّافِلِیْن کی طرف میلان کی مثال ہے جیسے بچہ لذّتِ ریاست ملاحظہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور اس کی توجہ پرندوں کے ساتھ کھیلنے کی طرف ہوتی ہے۔ عارف کی معرفت اگرچہ دنیامیں قوی ہو لیکن پھر بھی ان شواغل سے خالی نہیں ہوتا اور نہ ان شواغل سے بالکل خالی ہونا ممکن ہے۔ ہاں بعض اوقات یہ مشاغل اوررکاوٹیں بعض صورتوں میں کمزور ہوجاتے ہیں اور دائمی نہیں رہتے توبلاشبہ جمالِ معرفت اس طرح چمکتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور اس کی لذّت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس زیادتی کی وجہ سے دل پھٹنے کے قریب ہوجاتا ہے لیکن اس حالت میں بجلی کی چمک کی مانند ہمیشگی بہت کم ہوتی ہے بلکہ ایسے شواغل ، فکریں اور خیالات عارض ہوتے ہیں جو عارف کو پریشان اور اس کی زندگی کو بے مزہ کردیتے ہیں،اچھی زندگی تو موت کے بعد ہی ہے اور حدیث کی رُو سے عیش توآخرت کی عیش ہے۔
سچی زندگی اور افضل ترین سعادت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾ (پ۲۱،العنکبوت:۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے۔
اور جو اس درجے کو پہنچ جاتا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ملاقات کو پسند کرتا ہے اسی لئے وہ موت کو بھی پسند کرتا ہے اور معرفت میں کمال پانے کی اُمید کی وجہ سے ہی موت کو ناپسند کرتا ہے کیونکہ معرفت بیج کی طرح ہے اور معرفت کے سمندر کا کوئی کنارہ نہیں اس لئے ماہیَتِ جلالِ الٰہی کا احاطہ ناممکن ہے۔ جس قدر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات و صفات اور افعال ومملکت کے اَسرار کی معرفت زیادہ اور قوی ہوگی اسی قدرآخرت میں نعمتیں زیادہ اور