Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
66 - 784
 رکھتی جس طرح خیالِ معشوق کی لذّت کو اس کے دیدار سے کوئی نسبت نہیں ہوتی اور نہ ہی پسندیدہ کھانوں کو سونگھنے کی لذّت ان کو چکھنے کی لذّت سے کچھ نسبت رکھتی ہے اور نہ ہی ہاتھ کے ساتھ چھونے کی لذّت کو جماع کی لذّت کے ساتھ کوئی نسبت ہے۔
لذّتِ دیدار میں تفاوت کے اسباب:
	 بیان کردہ دونوں لذّتوں کے درمیان عظیم تفاوت کو مثال کے بغیر ظاہر کرنا ممکن نہیں پس ہم کہتے ہیں  کہ دنیا میں دیدارِ معشوق کی لذّت چند اسباب سے متفاوت ہوتی ہے:
٭…جمالِ معشوق کا کامل اور ناقص ہونا: کیونکہ لازمی طور پر کامل جمال والے کی طرف دیکھنے کی لذّت زیادہ ہوتی ہے ۔ 
٭…قوتِ محبت، عشق اور خواہش کا کامل ہونا:کیونکہ قوی عشق والے کو جو لذّت ملتی ہے وہ کمزور خواہش اور محبت والے کو نہیں ملتی۔
٭…کمالِ ادراک:کیونکہ معشوق کو اندھیرے میں یا باریک پردے کی آڑ سے یا دور سے دیکھنے میں ویسی لذّت نہیں ہوتی جیسی لذّت اس کو قریب سے بغیر پردے کی آڑ کے اور خوب روشنی میں دیکھنے سے ہوتی ہے۔اسی طرح کپڑا حائل ہونے کی صورت میں ہمبستری کی وہ لذت  نہیں ہوتی جو حالتِ برہنگی میں ہوتی ہے۔
٭…دل کو پریشان اور تشویش میں ڈالنے والے اُمور کا نہ ہونا:کیونکہ جو لذّت ایک صحیح البدن، فارِغُ الْبال اور شَواغِل سے خالی نوجوان کو معشوق کی طرف دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے وہ خوف زدہ، مریض، درد میں مبتلا یا مشغولُ الْقَلب شخص کو حاصل نہیں ہوتی۔
ایک فرضی مثال:
	 فرض کرو ایک عاشق ہے جس کا عشق کمزور ہے وہ اپنے معشوق کو باریک پردے کے پیچھے سے دور سے دیکھتا ہے اس طرح کہ اس کی صورت منکشف نہیں ہوتی ایسی حالت میں اس پر بچھو اور بھڑیں جمع ہیں جو اس کو کاٹ رہے ہیں اور اذیت پہنچا رہے ہیں اور اس کے دل کو مشغول کرتے ہیں، ایسی حالت میں بھی وہ اپنے معشوق کے دیدار کی کچھ نہ کچھ لذّت پاتا ہے اگر یکایک اس پر ایسی حالت طاری ہوجائےجس کے سبب پردہ دور ہو