Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
65 - 784
جوبوئے گا وہی کاٹے گا:
	جس کو دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پہچان نہیں ہوگی وہ آخرت میں بھی اس کا دیدارنہیں کر سکے گااور جو دنیا میں معرفَتِ الٰہی کی لذّت نہ پاسکاوہ آخرت میں لذّتِ دیدار بھی نہیں پاسکے گا کیونکہ جس کے ساتھ دنیا سے کوئی چیز نہیں جائے گی توآخرت میں اس کے لئے  وہ نئی پیدا نہیں کی جائے گی جو یہاں بوئے گا وہی کاٹے گا اور آدمی جس حالت پر مرے گا اسی حالت پر اٹھایا جائے گا اور موت اسی حالت پرآتی ہے جس پر زندگی گزاری ہو تو جس قدر معرفت دنیا سے ساتھ لے جائے گا اسی قدر لذّت پائے گا مگر یہ کہ حجاب اٹھ جانے کی وجہ سے معرفت مشاہدے میں تبدیل ہوجائے گی جس کے باعث اس کی لذّت ایسے دوبالا ہوگی جیسے معشوق کی صورتِ خیالی جب مشاہدے اور رویَتِ بصری میں تبدیل ہو تو عاشق کی لذّت دوبالا  ہوتی ہے کیونکہ یہی اس کی لذّت کی انتہا ہے اور چونکہ جنت میں ہر شخص کو من چاہی نعمتیں ملیں گی تو جو دیدارِ الٰہی کے سوا کوئی خواہش نہیں کرے گا اسے اس کے علاوہ میں لذّت نہیں ملے گی بلکہ ممکن ہے اس کی وجہ سے اذیّت محسوس کرے۔
	گفتگوکاحاصل یہ ہے کہ جنتی نعمتیں اسی قدر ملتی ہیں جس قدر محبتِ الٰہی ہو اور محبتِ الٰہی بقدرِ معرفتِ الٰہی  کے ہوتی ہے لہٰذا ہرسعادت کی اصل وہ معرفت ہے جس کو شریعت میں ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب:
	اگر لذّتِ معرفت کی طرف لذّتِ دیدار کی کچھ نسبت ہے تو قلیل ہے اگرچہ وہ معرفت کی نسبت کئی گنا زیادہ ہو کیونکہ دنیا میں لذّتِ معرفت بہت ضعیف ہے لہٰذا اس کادوچند ہونا اس حد کو نہیں پہنچائے گا جس کے سامنے جنت کی نعمتیں حقیر معلوم ہوں۔
	جواب:جان لیجئے:لذّتِ معرفت کو حقیر سمجھنا اُس سے صادر ہوسکتا ہے جو معرفت سے خالی ہو تو جو معرفت سے خالی ہے وہ اس کی لذّت  کیسے پا سکتا ہے؟ اور اگر کسی کی معرفت کمزور ہو لیکن اس کا دل دنیاوی علائق سے بھرا ہواہوتو وہ لذّتِ معرفت کیسے پائے گا؟ جبکہ حقیقی عارفین کو معرفت، فکر اور مناجاتِ الٰہی میں ایسی لذّتیں ملتی ہیں کہ اگر انہیں ان کے بدلے جنتی لذّتیں پیش کی جائیں تو وہ ان لذّتوں کو جنتی لذّتوں سے تبدیل نہیں کریں گے۔ پھر یہ لذّت ِ معرفت کمال کے باوُجود لذّتِ دیدار الٰہی کے ساتھ کچھ نسبت نہیں