میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت نہ ہو وہ آخرت میں اس کو کیسے دیکھے گا ؟
تجلّی کے درجات میں تفاوت:
چونکہ معرفت کے مختلف دَرَجات ہیں تو تجلی کے درجات میں بھی تفاوُت ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے بیج مختلف ہونے سے نباتات مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان میں لازمی طور پر کثرت، قِلَّت، حُسن، قُوت اور ضُعف کے اعتبار سے تفاوت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اِنَّ اللّٰہَ یَتَجَلَّی لِلنَّاسِ عَامَّةً وَّ لِاَبِیۡ بَکۡرٍ خَاصَّة ًیعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ لوگو ں کے لئے عام تجلی فرمائے گااورابو بکرکےلئےخاص ۔ “(1)یہاں یہ گمان نہ کیاجائےکہ”دیداراور مشاہدے کی جو لذّت حضرت سیّدُناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پائیں گے ویسی ہی لذّت آپ سے کم درجے والے کو بھی حاصل ہو گی۔“ بلکہ اگر دنیا میں عام عارف کی معرفت آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی معرفت کا سوواں حصہ ہوگی تووہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو حاصل ہونے والے لذّتِ دیدار کا سوواں حصہ پائے گا۔ نیزحضرت سیّدُناابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رازِ معرفت میں لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے اور یہ رازآپ کے سینے میں موجزن تھا، اس لئے آخرت میں اس تجلی کو پانے میں یکتاہوں گے اور جس طرح کہ تم دنیا میں دیکھتے ہو کہ بعض لوگ لذّتِ ریاست کو کھانے اور نکاح کی لذّت پر ترجیح دیتے ہیں اوریہ بھی دیکھتے ہو کہ بعض لوگ لذّتِ علم اور زمین وآسمان کے اسرار کے انکشاف اور تمام اُمورِ الٰہیہ کو ریاست، نکاح اور تمام کھانے پینے کی لذّات پر ترجیح دیتے ہیں، اسی طرح آخرت میں ہوگا کہ ایک جماعت دیدارِالٰہی کی لذّت کو جنتی نعمتوں پر ترجیح دے گی کیونکہ جنتی نعمتیں کھانے پینے اور نکاح کی طرف ہی لوٹتی ہیں اور یہ لوگ وہی ہیں جن کا دنیاوی حال ہم نے ذکر کیا کہ علم، معرفت اور اسرارِ الٰہی کی لذّت کو کھانے پینے اور نکاح کی لذّت پر ترجیح دیتے ہیں حالانکہ تمام مخلوق ان چیزوں سے لذّت حاصل کرنے میں مشغول ہے۔ حضرت سیّدَتُنا رابعہ بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاسے عرض کی گئی:آپ جنّت کے بارے میں کیا فرماتی ہیں؟ فرمایا: ’’اَلْجَارُ ثُمَّ الدَّاریعنی پہلے پناہ دینے والا پھرپناہ گاہ۔“توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے واضح کردیا کہ ان کاقلبی میلان جنّت کی طرف نہیں بلکہ مالکِ جنت کی طرف ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الکامل فی ضعفاء الرجال ،۶/ ۳۷۰، الرقم:۱۳۷۰:علی بن عبدة