لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجلی فرمائے گا اور وہ ایسی تجلی فرمائے گا کہ اس کے علم کی نسبت تجلی ایسے ہی واضح ہوگی جیسے خیال کی نسبت رُویَت زیادہ واضح ہوتی ہے اور اسی مشاہدے اور تجلی کا نام رُویَت ہے۔
دیدارِ الٰہی کی کیفیت:
معلوم ہوا کہ رویت حق ہے بشرطیکہ رویت کا یہ معنی نہ سمجھا جائے کہ کسی صورتِ خیالیہ کا ادراک جو مخصوص جہت اور مکان میں ہو اس کی تکمیل کا نام رُویَت ہے کیونکہ اس معنی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ومنزہ ہے بلکہ جس طرح تم نے دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکو بغیر شکل و صورت اور خیال کے مکمل اورحقیقی معرفت کے ساتھ جانا اسی طرح تم آخرت میں اس کا دیدار کروگے بلکہ میں کہتا ہوں کہ دنیا میں حاصل ہونے والی معرفت ہی ہے جس کو کمال تک پہنچایا جاتا ہے اور کمالِ کشف اور وضاحت تک پہنچنے کے بعد وہ مشاہدے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔لہٰذا اُخروی مشاہدے اور معلومِ دنیوی کے درمیان فرق صرف کشف اور وضاحت کی زیادتی کی جہت سے ہے جیسا کہ ہم نے خیال کی مثال میں بیان کیا۔
معلوم ہوا کہ معرفَتِ الٰہی میں صورت اور جہت کا اثبات نہیں ہے۔ لہٰذااسی معرفت کے کمال اور غایت کشف و وضاحت میں پہنچنے کی صورت میں بھی جہت اور صورت کا اثبات نہیں ہوگا کیونکہ وہ دونوں ایک ہی ہیں ان میں فرق صرف زیادتِیٔ کَشْف کا ہے جس طرح دکھائی دینے والی صورت خیالی صورت ہی ہوتی ہے لیکن فرق صرف زیادتی کشف کا ہوتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاس فرمانِ عالیشان میں اسی کی طرف اشارہ ہے:
نُوۡرُہُمْ یَسْعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ بِاَیۡمَانِہِمْ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوۡرَنَا (پ۲۸،التحریم:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کےآگے اور ان کے دہنے عرض کریں گے اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارا نورپورا کر دے۔
کیونکہ نور کی تمامیت زیادتِیٔ کشف کی صورت میں ہوجاتی ہے۔ اسی لئے دیدار اور رُویت کے درجے کو وہی لوگ پہنچیں گے جو دنیا میں عارف ہوں گے کیونکہ دنیاوی معرفت ہی وہ بیج ہے جوآخرت میں مشاہدہ کی صورت میں بدل جائے گا، جس طرح گٹھلی درخت اور بیج کھیتی بن جاتے ہیں اور جس کی زمین میں گٹھلی ہی نہ ہو تو وہاں درخت کیسے اُگے گا؟ اور جو کھیت میں بیج نہ ڈالے وہ کھیتی کیسے کاٹے گا؟ اسی طرح جس کو دنیا