طورپر خالی نہیں ہوتا اگرچہ کَدُوْرَتَوں میں تفاوُت ہوتا ہے۔بعض نُفوس پر تو خباثت اور زنگ کی تہہ چڑھی ہوتی ہے اور وہ اس آئینے کی طرح ہوجاتے ہیں جس کا جوہرطویل عرصے تک زنگ آلود رہنے کی وجہ سے خراب ہوچکاہےاوراب صفائی اورپالش کوقبول نہیں کرتا۔یہی وہ لوگ ہیں جوہمیشہ ہمیشہ اپنےربّعَزَّ وَجَلَّ سے حجاب میں رہیں گے۔نَعُوۡذُ بِاللّٰہ ِمِنۡ ذَالِکَ(ہم اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں)اور بعض نُفوس ایسے ہوتے ہیں جن کی کدورت اس حد کو نہیں پہنچی ہوتی اور نہ وہ تزکیہ اور قبولِ اصلاح سے نکلے ہوتے ہیں تو ایسوں کو جہنم پر پیش کیا جائے گا جو ان سے گندگیوں کو دور کردے گا جس سے وہ ملوث تھے اور ان کو جہنم پر اسی قدر پیش کیا جائے گا جس قدر صفائی کی حاجت ہوگی اور اہْلِ ایمان کے حق میں اس کی کم از کم مقدار ایک خفیف لحظہ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ مقدار حدیث کی رو سے سات ہزار سال ہے(1) اور اس دنیا سے جوبھی نفس کوچ کرتا ہے اس پر کچھ نہ کچھ غبار اور کدورت ہوتی ہے ۔ اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا:
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا ﴿۷۲﴾ (پ۱۶،مریم:۷۱تا۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔
پہلی بات یقینی اوردوسری غَیْرِیقینی:
مذکورہ آیتِ مُبارَکہ سے پتا چلا کہ ہر نفس کا جہنم پر سے گزرنا تو حتمی ہے لیکن وہاں سے واپس نکل آنا غیریقینی ہے۔ واپسی اسی وقت ہوگی جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو مکمل طورپر پاک وصاف فرمادے اور تقدیر کا لکھا اپنے وقت کو پہنچ جائے اور شریعت نے جن باتوں کا وعدہ فرمایا ہے یعنی حساب،پیشی وغیرہ وہ ہولیں اور جنت کا استحقاق ثابت ہوجائے اور یہ ایک مبہم وقت ہےجس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مخلوق میں کسی کو مطلع نہیں کیا کیونکہ یہ تمام مُعاملات قیامت کے بعد ہوں گے اور قیامت کا وقت معلوم نہیں،لہٰذا بندے کو کدورتوں سے صفائی ستھرائی میں مشغول رہنا چاہئے یوں کہ اس کے چہرے پر کوئی گرد و غبار نہ چڑھے کیونکہ اسی کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نوادر الاصول، الاصل الثالث والمائة،۱/ ۴۳۰،حدیث:۶۲۱