تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے معراج کی رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو نہیں دیکھا۔(1)
دیدارِ الٰہی سے ہمیشہ کی محرومی:
پس جب موت کی وجہ سے حجاب اٹھ جاتا ہے تو نفس دنیاوی کَدُورَتَوں میں مُلَوِّث رہتا ہے اس سے مکمل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب التوحید، باب:۴،۴/ ۵۳۳،حدیث:۷۳۸۰
حافظ عراقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں :امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کا اس بات کو صحیح قرار دینا کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے معراج کی رات رب تعالیٰ کو نہیں دیکھا یہ حضرت سیِّدَتُناعائِشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کاقول ہےجبکہ حضرت سیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور اکثر علما کاقول یہ ہے کہ دیکھا ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۲/ ۳۷۴) امام ابو زکریا یحی بن شرف نووی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی”شرح صحیح مسلم“،جلد3،صفحہ 5پرفرماتے ہیں:” اَنَّ الرَّاجِحَ عِنْدَ اَکْثَرِ الْعُلَمَاءِ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم رَاٰی رَبَّہٗ بِعَیۡنَیۡ رَاْسِہٖ لَیۡلَۃَ الۡاِسۡرَاء یعنی اکثر علما کے نزدیک راجح یہی ہے کہ معراج کی رات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے سرکی آنکھوں سے رب عَزَّ وَجَلَّ کا دیدار کیا۔“ اس قول کی بنیاد جن احادیث وآثارپر ہے ان میں سے چند یہ ہیں : (1)رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں ’’میں نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھا۔“(المسندللامام احمد،مسند عبداللّٰہ بن العباس، ۱/ ۶۲۱، حدیث:۲۶۳۴)(2)حضور سیّدُ المرسلینصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:”بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکو کلام کی نعمت بخشی اور مجھے اپنا دیدار عطا فرمایا۔‘‘(فردوس الاخبار،۱/ ۱۰۶، حدیث: ۶۵۱) (3)رحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتےہیں کہ میرےربعَزَّ وَجَلَّ نےمجھ سےارشادفرمایا:”میں نےابراہیم کواپنی دوستی دی اورموسیٰ سے کلام فرمایااور اےمحبوب! تمہیں بلاحجاب اپنادیدارعطافرمایا۔‘‘(تاریخ مدینة دمشق،باب ذکرعروجہ الی السماء...الخ، ۳/ ۵۱۷، حدیث:۸۰۱)(4)حضرت سیّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ارشادفرماتے ہیں:ہم بنی ہاشم (آلِ رسول)توکہتے ہیں کہ بے شک رسولِ كریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاپنےرب کودوباردیکھا۔(الشفاء ،فصل واما رؤیته صلی الله عليه وسلم لربہ عزوجل،۱/ ۱۹۶) (5)حضرت سیّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:’’بےشک حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھا۔( کتاب التوحیدلابن خزیمة ،باب ذکر الاخبارالماثورة فی اثبات رؤية النبی صلی الله عليه وسلم خالقہ عزوجل،۲/ ۴۸۷، حدیث:۲۸۰) (6)مروان نے حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا:کیا رسولِ اكرمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنے رب کو دیکھا؟ ارشاد فرمایا:”ہاں۔“(شرح الزرقانی علی المواھب،المقصد الخامس، ۸/ ۲۴۴) (7)حضرت سیِّدُنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی قسم کھا کر فرمایاکرتے تھے:بے شک محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھا ہے۔( کتاب التوحیدلابن خزیمة ،باب ذکر الاخبار الماثورة فی اثبات رؤية النبی صلی الله عليه وسلم خالقہ عزوجل،۲/ ۴۸۸،حدیث:۲۸۱)
مزید تفصیل کے لئےسیدی اعلیٰ حضرت،مجدد دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکےرسالہ’’مُنَبِّہُ الْمُنْیَۃ بِوُصُوْلِ الْحَبِیْبِ اِلَی الْعَرْشِ وَ الرُّؤْیَۃ“فتاوی رضویہ، جلد30، صفحہ 636تا656کا مطالعہ فرمائیے۔