Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
60 - 784
 فرمادیتا تو بھی اس کو رویت ہی کہا جاتا۔
معرفت وادراک کے دو درجے:
	جپ آپ خیالی صورتوں کے بارے میں یہ بات سمجھ گئے تو جان لیجئے کہ وہ معلومات جو خیال میں بھی غَیْرِ مُتَشَکِّل ہیں ان کی معرفت اور ادراک کے دو درجے ہیں:ایکآغازِ ادراک ہے اور دوسرا اس کی تکمیل اور ان دونوں ادراکوں میں زیادتِیٔ  کَشْف اور وضاحت کے اعتبار سے فرق ہے جو ویسے ہی ہے جیسے خیالی صورت اور دیکھی جانے والی چیز میں فرق تھا۔ دوسرے ادراک کو پہلے ادراک کی طرف نسبت کرتے ہوئے مشاہدہ،لِقاء(یعنی ملاقات) اور رُویَت کہتے ہیں اور دوسرے ادراک کا یہ نام رکھنا حق ہے کیونکہ رویت کو اس لئے رویت کہتے ہیں کہ اس میں انتہا درجے کا کشف ہوتا ہے اور جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عادتِ جاریہ ہے کہ آنکھوں کی پلکیں خوب ملی ہونے کی صورت میں کشف تام نہیں ہوتااور نگاہ اوروہ چیز جسے دیکھنا ہواس کے درمیان حجاب رہتا ہے اورحصولِ رُویَت کے لئے  اس حجاب کا اٹھنا ضروری ہوتا ہے جب تک حِجاب دور نہیں ہوتا تب تک حاصل ہونے والا ادراک محض خیال ہوتاہے۔ اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے طریقہ جاریہ کا تقاضا ہے کہ جب تک نفس عوارضِ بدنیہ، شہوات اور غالب بشری صفات کے تقاضوں کی وجہ سے حجاب میں رہے گا تب تک اس کوخیال سے خارج معلومات کا مشاہدہ اور لقاء حاصل نہیں ہوگا بلکہ دنیاوی زندگی ہی اس رُویَت سے حجاب ہے جس طرح پلکوں کا بند کرنا آنکھوں کی رُویَت سے حجاب تھا اور دنیاوی زندگی کے حجاب ہونے کا سبب طویل ہے جو اس علم کے مناسب نہیں۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسٰیعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا:
 لَنۡ تَرٰىنِیۡ  (پ۹،الاعراف:۱۴۳)	ترجمۂ کنز الایمان: تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔
	اور ارشاد فرماتاہے :
لَا تُدْرِکُہُ الۡاَبْصَارُ۫ (پ۷،الانعام:۱۰۳)	ترجمۂ کنز الایمان: آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں۔
	یہاں یہ مرادہے کہ’’دنیا میں احاطہ نہیں کرتیں‘‘اور صحیح یہ ہے کہ رسولِ اکرم،شفیْعِمُعَظَّمصَلَّی اللہُ