کی محبت تمیز کی عمر میں جبکہ عورتوں اور زینت کی محبت بلوغت کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے اور ریاست کی محبت بیس سال کے بعدجبکہ محبتِ علم تقریباً چالیس سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے اور یہی انتہا غایت ہے۔اور جس طرح بچہ اس شخص پر ہنستا ہے جو کھیل کود چھوڑ کر عورتوں کے ساتھ مُلاعَبَت اور طلبِ ریاست میں مشغول ہوجائے اسی طرح ریاست والے اس شخص پر ہنستے ہیں جو ریاست چھوڑ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت میں مشغول ہوجاتا ہے جبکہ عارفین گویا یہ کہہ رہے ہوتے ہیں: ’’اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہوتوتم جلد جان جاؤ گے۔‘‘
پانچویں فصل : دُنیاوی معرفت کی نسبت آخرت میں
لَذَّتِ دیدار کے زیادہ ہونے کا سبب
دنیاوی معرفت کی نسبت آخرت میں لذّتِ دیدارِ باری تعالٰی کی زیادتی کا سبب جاننے کے لئے پہلے یہ جان لیجئے کہ جن اشیاء کا ادراک کیا جاتا ہے ان کی دو قسمیں ہیں:(۱)…وہ جو خیال میں آتے ہیں جیسے خیالی صورتیں اور رنگ برنگے حیوانات اور نباتات جو مختلف جسم اور شکل رکھتے ہیں اور(۲)…وہ جو خیال میں نہیں آتے جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات اور تمام وہ چیزیں جو جسم نہیں رکھتیں جیسے علم،قدرت اورارادہ وغیرہ۔
جو کسی انسان کو دیکھے پھر اپنی آنکھ بند کر لے وہ اس کی صورت کو اپنے خیال میں موجود پائے گا گویا کہ اس کی طرف دیکھ رہا ہےلیکن جب آنکھ کھول کر دیکھے تو دونوں حالتوں میں فرق محسوس کرے گا اور یہ فرق دونوں صورتوں کے درمیان نہیں ہے کیونکہ دکھائی دینے والی صورت اس صورت کے موافق ہے جو خیال میں ہے بلکہ فرق مَحْض کشف اورواضح ہونے کی زیادتی میں ہےکیونکہ دکھائی دینے کے سبب دکھائی دینے والی صورت کا اِنکشاف اور وضاحت تام ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ جس طرح کسی شخص کو دن کی روشنی پھیلنےسےقبل دیکھاجائےپھرخوب روشنی پھیلنےکےوقت اس کودیکھاجائےتو دونوں حالتوں میں تفاوُت صرف زیادتِیٔ کشف اور وضاحت کا ہے۔ یوں ہی خیال کو ادراک کاآغاز اور ادراکِ خیال کی تکمیل کو رُویَت کہتے ہیں اور یہ انتہائے کشف ہے اور اس کا نام رویت بھی اسی وجہ سے ہے کہ یہ انتہا درجے کا کشف ہوتا ہے۔ یہ وجہ نہیں کہ اس کاآنکھ سے تعلق ہے بلکہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کامل اور واضح ادراک کو پیشانی یا سینے میں پیدا