(۲)…تومیں جس پر حسد کرتا تھا وہ مجھ پر حسد کرنے لگااور جب سے میں تیرا غلام بنا مخلوق کاآقا بن گیا۔
(۳)…میں نے تیرےذکرمیں مشغول ہوکرلوگوں کی دنیا اور دین کو ان کے لئے چھوڑ دیا اے میرے دین ودنیا ۔
ایک شاعر نے اسے یوں بیان کیا ہے:
وَ ھِجۡرُہٗ اَعۡظَمُ مِنۡ نَّارِہٖ وَ وَصۡلُہٗ اَطۡیَبُ مِنۡ جَنَّتِہٖ
ترجمہ:اس کا فراق جہنم سے بڑھ کر تکلیف دہ اور اس کا وصال جنت سے لذیذ تر ہے ۔
لذّتیں اور مخلوق کے احوال کی مثال:
عارفین کی غرض فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت میں قلبی لذّت کو کھانے، پینے اور نکاح کی لذّت پر ترجیح دینا ہے کیونکہ جنت حواس کے فائدہ اٹھانے کی جگہ ہےاور رہا دل تو اس کی لذّت صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات میں ہےاور لذّتوں کے معاملے میں مخلوق کی مثال بچے کی طرح ہے کہ جس طرح بچے میں اس کی پہلی حرکت اور تمیز کے وقت ایک قوت پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کھیل کود میں لذّت پاتا ہے حتّٰی کہ یہ اس کے نزدیک تمام اشیاء سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے پھر اس کے بعد زیب و زینت، کپڑے پہننے اور سُواری کرنے کی لذّت ظاہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کھیل کی لذّت کو حقیر سمجھنے لگتا ہے، اس کے بعد لذّتِ جماع اور عورتوں کی خواہش ظاہر ہوتی ہے پس وہ اس لذّت کو پانے کے لئے پہلی تمام لذّتیں چھوڑ دیتا ہے، پھر ریاست، غلبہ اور کثرتِ مال و اولاد کی لذّت ظاہر ہوتی ہے اور دنیاوی لذّتوں میں یہ سب سےآخری، اعلیٰ اور اقوٰی لذّت ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے: اِعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ(پ۲۷،الحدید:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اورآرائش اور تمہاراآپس میں بڑائی مارنااور( مال اور اولاد میں)ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا۔
پھر اس کے بعد ایک دوسری قوّت ظاہر ہوتی ہے جس کے ذریعے معرفتِ ذاتِ باری تعالٰی اور معرفتِ افعالِ باری تعالٰی کی لذّت کا اِدراک ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ پہلی تمام لذّتوں کو اس لذّت کے سامنے حقیر سمجھتا ہے اور ہر بعد والی لذّت ما قبل سے قَوِی ہوتی ہے اور یہی سب سےآخری لذّت ہے کیونکہ کھیل کود