Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
57 - 784
لوگ پتھر مارتے ہیں:
	اور جس شخص کی قلبی صفائی انتہا کو پہنچ جائے اس کو ان لذّتوں میں سے بعض دنیا میں ہی حاصل ہوجاتی ہیں۔ اسی لئے ایک بزرگ نے فرمایا:’’ میں یَا رَب اور یَااللہکہتا ہوں تو اپنے دل پر پہاڑوں سے زیادہ بوجھ محسوس کرتا ہوں کیونکہ پکاراتو اسے جاتا ہے جوپردے کی آڑ میں ہو،کیاتم نے کبھی کسی شخص کو دیکھا ہے کہ اپنے ہم نشین کو پکارتا ہو؟نیز فرمایا:جب بندہ اس عِلْم کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو لوگ اس کو پتھر مارنے لگتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اس کا کلام لوگوں کی عقلوں کی حدسے باہر ہوتا ہے تو اس کی باتوں کو جنون اور کفر سمجھتے ہیں۔
آگ بھی اثر نہیں کرتی:
	گفتگوکا خلاصہ یہ ہے کہ تمام عارفین کا مقصد صرف اس ذات کا وصال اور اس کی لِقا ہےاور یہی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اس میں سے جو اُن کے لئے چھپا رکھا ہے اسے کوئی نہیں جانتااور جب وہ حاصل ہوجاتی ہے تو تمام خواہشات اور ارادے مٹ جاتے ہیں اور دل اس کی لذّتوں میں ایسا ڈوب جاتا ہےکہ اگر اسےآگ میں بھی ڈال دیا جائے تو وہ تکلیف محسوس نہیں کرے گااور اگر اس پر جنت کی نعمتیں بھی پیش کی جائیں تو اس لذّت کے کمال و انتہا پر پہنچنےکے سبب وہ  لذّاتِ جنت کی طرف التفات نہیں کرے گا۔
	کاش میں جان پاتاکہ جو صرف محسوسات کی محبت کو ہی سمجھتاہے  وہ رُویَتِ باری تعالٰی کی لذت پر کیسے ایمان لاتاہےحالانکہ وہ ذات شکل و صورت سے پاک ہے اور پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں سے جو اس کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کو تمام نعمتوں سے عظیم تر قراردیاہے اس کا کیا مطلب ہوگا؟ حتّٰی کہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل ہے وہ جانتا ہے کہ مختلف خواہشات کی متفرق لذّتیں سب کی سب اسی ایک لذّت میں جمع ہیں جیسا کہ کسی شاعر نے کہاہے:
   کَانَتۡ لِقَلۡبِیۡ اَھۡوَاءٌ مُفَرَّقَةٌ		فَاسۡتَجۡمَعۡتُ مُذۡ رَاَتۡـکَ الۡعَیۡنُ اَھۡوَائِیۡ
فَصَارَ یَحۡسُدُنِیۡ مَنۡ کُنۡتُ اَحۡسُدُہٗ		وَ صِرۡتُ مَوۡلَی الۡوَرٰی مُذۡ صِرۡتَ مَوۡلَائِیۡ
تَرَکۡتُ لِلنَّاسِ دُنۡیَاھُمۡ وَ دِیۡنَھُمۡ		شُغۡلًا بِذِکۡرِکَ یَا دِیۡنِیۡ وَ دُنۡیَائِیۡ
	ترجمہ:(۱)…میرے دل میں مختلف خواہشات تھیں، جب آنکھ نے تمہیں دیکھا تو میں نے سب کو پالیا۔