Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
56 - 784
 محبت کی وجہ سے نہیں کی کہ میری حالت بُرے مزدور جیسی ہو بلکہ میں نے اُس کی عبادت صرف اس کی محبت اور اس کے شوق کی وجہ سے کی ہے ۔“(1)پھر انہوں نے محبت کے بارے میں یہ اشعار کہے :
اُحِبُّکَ حُبَّیۡنِ حُبَّ الۡھَویٰ		وَ حُبًّا لِاَنَّـکَ اَھۡلٌ لِّذَاکَا
فَاَمَّا الَّذِی ھُوَ حُبُّ الۡھَوٰی		فَشُغۡلِیۡ بِذِکۡرِکَ عَمَّنۡ سِوَاکَا
وَاَمَّا الَّذِیۡ اَنۡتَ اَھۡلٌ لَّہٗ		فَکَشۡفُکَ لِی الۡحُجُبَ حَتّٰی اَرَاکَا
لَا الۡحَمۡدَ فِیۡ ذَا وَلَا ذَاکَ لِیۡ		وَ لٰکِنۡ لَّکَ الۡحَمۡدُ فِیۡ ذَا وَ ذَاکَا
	ترجمہ:(۱)…میں تجھ سے دو باتوں کی وجہ سے محبت کرتی ہوں ،ایک عشق اور دوسرا تُو ہی محبت کا اہل ہے۔
	(۲)…عشق والی محبت یہ ہے کہ میں تیرے سواسب کو چھوڑکرتیرے ذکر میں مشغول ہوں۔
	(۳)…اورمحبت کااہل تُو ہی ہے کیونکہ تونے حجابات وپردے اٹھا کر مجھے اپنا دیدار عطا فرمایا۔
	(۴)…میرے لئے اِس محبت میں کوئی تعریف ہے نہ اُس میں  بلکہ دونوں میں تعریف تیرے ہی لئے ہے۔
	شایدحضرت سیِّدَتُنا رابعہ بَصْرِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے عشق والی محبت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت مراد لی ہو جو اس کے دنیا وی احسانات اور اِنعامات کی وجہ سے ہوتی ہے اوروہ محبت جس کا اہل صرف وہی ہے تواس سے مراد وہ محبت ہوجو اس کے جلال اور جمال کی وجہ سے ہو تی جوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے لیے منکشف ہوئے اور محبت کی یہ قسم اعلیٰ اور اقوٰی ہے۔
جمالِ ربُوبیت پر آگاہی کی لذّت:
	جمالِ رَبُوبِیَّت پرآگاہی وواقفیت کی لذّت وہ ہے جسے حدیثِ قُدسی (2)میں  یوں تعبیر فرمایا گیا:”اَعۡدَدۡتُّ لِعِبَادِی الصَّالِحِیۡنَ مَا لَا عَیۡنَ رَاَتۡ وَلَا اُذُنَ سَمِعَتۡ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلۡبِ بَشَرٍیعنی میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا کھٹکا گزرا۔“(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ،۲/ ۹۴
2…وہ ہ حدیث جس کے راوی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہوں اور نسبت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف ہو۔(نصاب اصول حدیث،ص ۷۷)  
3…بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی صفة  الجنة وانھا مخلوقة،۲/  ۳۹۱،حدیث:۳۲۴۴