Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
55 - 784
	حال ہے؟ ارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکے علم میں تھا کہ میری کھانے پینے کی طرف رغبت کم ہےتواُس نے مجھے اپنے دیدار کی دولت عطا فرمائی۔(1)
سیِّدُنا معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہاور دیدارِ الٰہی :
	حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن علی بن مُوَفَّق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ مجھے جنت میں داخل کیا گیا ہےتو میں نے وہاں ایک شخص کو دستر خوان پر بیٹھے ہوئے دیکھاجس کے دائیں بائیں دو فرشتے اُسے انواع و اقسام کی چیزیں کھلا رہے ہیں اور وہ کھا رہا ہے اور ایک شخص کو دیکھا کہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہے لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر بعض کو داخل ہونے دیتا ہے اور بعض کووا پس لوٹا دیتا ہے۔ فرماتے ہیں: پھرمیں ”حَظِیْرَۃُ الْقُدْس“ کی جانب بڑھا تو عرش کے خیموں میں ایک شخص نظرآیا جو دیدارِ الٰہی میں مستغرق تھا اورآنکھ نہیں جھپکتاتھا۔ میں نے(خازنِ جنت)حضرت رضوان عَلَیْہِ السَّلَامسے پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب دیا: یہ معروف کرخی ہیں جنہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت جہنم کے خوف اور جنت کے حُصول کے لئے  نہیں بلکہ محض اس کی محبت کی وجہ سے کی،لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں قیامت تک اپنی طرف دیکھنے کی اجازت عطا فرمادی  ہے۔“(2)اور دیگر دو افراد کے بارے میں بتایاکہ  وہ حضرتِ سیِّدُنا بشر حافی اور حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا ہیں۔ 
	حضرتِ سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”جوآج اپنے نفس میں مشغول ہے وہ کل بھی اسی میں مشغول ہوگااور جوآج اپنے ربّعَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ مشغول ہے وہ کل بھی اسی کے ساتھ مشغول رہے گا۔(3)
محبَّتِ الٰہی کے سبب عبادت:
	حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےحضرتِ سیِّدَتُنارابعہ بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاسے فرمایا: آپ کے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ توانہوں نے جواب دیا: ”میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت اس کی جہنم کے خوف اور جنت کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…طبقات الحنابلة  لابن ابی یعلی الحنبلی،۱/ ۲۰۲،الرقم:۲۸۱عبد الوھاب بن عبد الحکیم
2…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ،۲/ ۹۳
3…قوت القلوب،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین ،۲/ ۹۴