کو بیان کرنے میں فائدہ کم ہے بس اس قدر گفتگو سے تمہیں اس بات پر تنبیہ ہوچکی ہوگی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت تمام اشیاء سے لذیذ ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی لذّت نہیں ۔
عارفین کو دنیا غافل نہیں کرسکتی:
حضرتِ سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن کو جہنم کا خوف اور جنت کی امید اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات سے غافل نہیں کرتی تو پھر دنیا انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات سے کیسے غافل کر سکتی ہے؟‘‘
معرفت کافی ہے :
کسی شخص نے حضرتِ سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سےعرض کی: ’’ اے ابو محفوظ! مجھے بتائیے کہ آپ کوکس چیز نےمخلوق سے علیحدگی اور عبادتِ الٰہی پر اُبھارا؟“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموش رہے تو اس نے خود ہی کہا: موت کی یاد نے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”موت کیا چیز ہے؟“ اس نے کہا: قبر اور برزخ کی یاد نے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”قبر کیاشے ہے ؟ “پھر اس نے کہا:جہنم کے خوف اور جنت کی امید نے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ”یہ کیا چیز ہے؟ بے شک یہ تمام چیزیں ایک بادشاہ کے قبضے میں ہیں اگر تو اس سے محبت کرے تو وہ تجھے سب کچھ بھلا دے اور اگر تیرےاور اس کے درمیان معرفت ہوجائے تو وہ تجھےان تمام کے مقابل کافی ہوجائے۔“
حضرتِ سیِّدُنا عیسٰی روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کافرمان ہے:جب تم کسی نوجوان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جستجو میں مُسْتَغْرَق دیکھو تو سمجھ لو کہ اسے اس جستجو نے ما سوا سے بیگانہ کر دیا ہے۔
سیِّدُنابشرحافیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اوردیدارالٰہی:
کسی بُزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنابِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کو(بعدِ وصال ) خواب میں دیکھ کر پوچھا:ابو نَصْر تَماراورعبدالوہاب وَرَّاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمَاکا کیا حال ہے؟ جواب دیا:’’ میں نے انہیں اس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں کھاتے پیتے چھوڑا ہے ۔“پھران بُزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےپوچھا:آپ کا کیا