جس نے چکھا وہ جان گیا:
اس گفتگو سے ظاہر ہوگیا کہ لذّتِ ریاست جو کہ باطنی ہے اصحابِ کمال کے نزدیک تمام حواس کی لذّات سے زیادہ قوی ہوتی ہے اور یہ لذّت چوپائے، بچے اور پاگل کو حاصل نہیں ہوتی اور یہ کہ اہْلِ کمال کو لذّتِ ریاست کے ساتھ ساتھ محسوسات اور شہوات کی لذّت بھی حاصل ہوتی ہے لیکن وہ لذّتِ ریاست کو ترجیح دیتے ہیں اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات، اس کی صفات، اس کے افعال اور آسمانوں کی بادشاہی اور اس کے اسرار کی معرفت کی لذّت ریاست کی لذّت سے بھی بڑھ کر ہے تو یہ اس کے کے ساتھ خاص ہے جو معرفت کے مرتبے تک پہنچا اور اس کا مزہ چکھااور اس معرفت کو ایسے شخص کے سامنے ثابت کرنا ممکن نہیں جو دل نہ رکھتا ہو کیونکہ دل ہی اس قوّت کا مَنْبع وسرچشمہ ہے جس طرح بچے کے سامنے لذّتِ جماع کی ترجیح ٹیڑھی لاٹھی(یعنی ہاکی)کے ساتھ کھیلنے کی لذّت پر ثابت کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی نامرد کے سامنے اس لذّت کی ترجیح عطر سونگھنے کی لذّت پر ثابت کر سکتے ہیں کیونکہ بچے اور نا مرد میں وہ صفت مفقود ہے جس کے ذریعے اس لذّت کا ادراک ہوتا ہے لیکن جو نامردی کی آفت سے محفوظ ہو اور سونگھنے کا حاسَّہ بھی دُرُست ہو وہ دونو ں لذّتوں کے درمیان فرق کا ادراک کر لے گا۔ ایسی صورت میں یہی کہا جا سکتا ہے ’’مَنۡ ذَاقَ عَرَفَ یعنی جس نے چکھا وہ جان گیا ۔‘‘
طالِبِ عِلم اور اُمُورِالٰہیہ کی معرفت:
طالب علم اگرچہ اُمورِ الہٰیہ کی معرفت طلب کرنے میں مشغول نہیں ہوتے مگر پھر بھی اس لذّت کی بُو ان کے مَشام تک پہنچ جاتی ہے جس وقت مشکل مسائل منکشف ہوتےاورشُبہات حل ہوتےہیں جن کی طلب کے وہ انتہائی حریص ہوتے ہیں کیونکہ یہ بھی معارِف اور عُلوم ہیں اگرچہ ان کی معلومات کو وہ شرف حاصل نہیں جیسا شرف معلوماتِ الہٰیہ کو ہےمگر جو شخص معرفتِ الہٰیہ میں زیادہ غوروفکر کرتا ہے اور ملْکِ الٰہی کے اسرار اس پر منکشف ہوتے ہیں اگرچہ تھوڑے ہوں تو وہ اپنے دل میں اس وقت اتنی خوشی پاتا ہے کہ اڑنے لگتا ہے اور وہ انتہائی فرحت اور خوشی کی وجہ سے اپنے نفس کے ثابت قدم رہنے اوراس امر کواٹھانے کی قدرت رکھنے پر تعجب وحیرت کرتا ہے۔ پھر اس بات کا ادراک بغیر ذوق کے نہیں ہو سکتا اور اس