Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
52 - 784
 اس کے مُنْقَطَع ہونے سے مامون ہے کیونکہ اس جنت کے پھل نہ تو ختم ہونے والے ہیں اور نہ ان سے روکا جائے گا۔ یہ ہمیشہ رہیں گے موت ان کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ موت معرفت کے محل کو ختم نہیں کرتی اور معرفت کا محل روح ہے جو امْرِ ربّانی سماوی ہے بلکہ موت تو فقط روح کے احوال کو تبدیل کرتی ہے، اس کے مشاغل اوررکاوٹوں کو ختم کرتی ہے اور اس کو قید سے رہا کرتی ہے لیکن اس کو معدوم نہیں کرتی۔
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوَاتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ﴿۱۶۹﴾ۙ فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ۙ وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنْ خَلْفِہِمْ ۙ(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۶۹تا۱۷۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں شاد ہیں اس پر جواللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منا رہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے۔
ہرسانس پر ہزار شہیدوں کا درجہ:
	یہ گمان مت کیجئے کہ یہ اس شخص کے ساتھ خاص ہے جس کو جنگ میں شہید کردیا جائے کیونکہ عارف کو ہر سانس کے بدلے میں ہزارشہیدوں کا درجہ ملتا ہے اور حدیث شریف میں ارشادفرمایاگیا:”بے شک شہیدجب آخرت میں شہادت کا ثواب دیکھے گا تو وہ اس عظیم ثواب کےسبب تمنا کرے گا کہ اس کو پھر دنیا میں بھیجا جائے  اور ایک بار پھر قتل کیا جائے اور شہدا جب عُلَماکے بلند درجات دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش! وہ علما ہوتے ۔“ (1)
	حاصل یہ کہ زمین وآسمان کی بادشاہت کے تمام اَطراف عارف کا میدان ہے۔ وہ جہاں چاہے جائے اور اسے اپنے جسم وبدن کو حرکت دینے کی بھی حاجت نہیں۔ وہ جمالِ ملکوت پرواقفیت کی وجہ سے اس جنت میں ہوتا ہے جس کی چوڑائی میں تمام آسمان اور زمین سماجائیں اورایک دوسرے پر تنگی ڈالے بغیرہر عارف کے لئے  ایسا  ہی مقام ہے۔ البتہ جس قدران کی وسعتِ نظر و معرفت ہوگی اسی قدر ان کی سیرگاہ کی وُسْعت ہوگی اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں مختلف درجات میں ہیں اور ان کے درمیان درجات کے تفاوت کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
… بخاری،کتاب الجھاد والسیر، باب الحورالعین …الخ،۲/  ۲۵۲،الحدیث:۲۷۹۵، بدون’’الشھداء یتمنون…‘‘