Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
51 - 784
جیسےناسمجھ وکم عقل شخص۔ایسوں کا کھانے کی لذّت کو ریاست کی لذّت پر ترجیح دینا کوئی بعید نہیں ۔
اعلیٰ لذّت سے بڑھ کر لذّت:
	پھر جیسا کہ لذّتِ ریاست و بُزرگی اس شخص پر تمام لذّتوں سے زیادہ غالب ہوتی ہے جو بچپن اور کم عقلی کی حد سے نکل گیا ہو اسی طرح معرفَتِ الٰہی وبارگاہِ رَبُوْبِیَّت کے جمال کا مشاہدہ اور اُمورِ الہٰیہ کے اَسْرار کی طرف نظر کرنے کی لذّت اس لذّتِ ریاست سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے جو مخلوق پر غالب لذّات میں سب سے اعلیٰ ہےاور ان اسرار کو یوں تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ ”جو آنکھ کی ٹھنڈک ان عبادت گزاروں کے لئے  چھپا رکھی ہےاسے کوئی نہیں جانتا اور ان کے لئے  وہ نعمتیں تیار کی گئی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال آیا۔“
	اس لذّت کی معرفت اسی کو ہوگی جو دونوں لذّتوں کا مزہ چکھ لے اورایسا شخص لازمی طور پر ہر شے سے الگ ہونے، خَلْوَت اختیار کرنے اور ذکر و فکر کرنے کو ترجیح دے گا اور معرفت کے سمندر میں غوطہ زن ہوگا اور اس لذّت کے مقابل ریاست و اقتدار کوحقیر سمجھ کر چھوڑ دے گا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ ریاست بھی فانی ہے اور جس پر ریاست قائم ہے وہ بھی فانی ہےاور اس لذّتِ ریاست میں بہت ساری خرابیاں ہیں جن سے چھٹکارا ممکن نہیں اوریہ لذّت موت سے ختم ہوجائے  گی اور موت نے آکر ہی رہنا ہےجیسےزمین خوب سرسبزو شاداب ہوجائے اور مالک سمجھ بیٹھے کہ اب یہ ہمارے قابومیں ہے کیونکہ  کھیتیاں اورپھل پک کر تیار ہوگئے ہیں اور اچانک بجلی گرنے یا اَوْلے برسنے یاآندھی چلنے سے سب ختم ہوجائے اور یہی موت کرتی ہے۔
	اَلْغَرَض یہ باتیں جاننے والا ریاست کی بَنِسْبَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت، اس کی ذات،اَفعال،اوراعلٰی عِلِّیِّیۡن سے اَسۡفَلُ السَّافِلِیۡن تک اس کے نظامِ مملکت پر مُطلع ہونے کی لذّت کو عظیم سمجھے گا کیونکہ اس لذّت میں کوئی مزاحمت اور خرابی نہیں اور یہ اپنے طلب گاروں کے لئے وُسعت رکھتی ہے جس میں کوئی تنگی نہیں۔ اندازے کی بات کریں تو اس کی چوڑائی میں زمین وآسمان آجائیں اوراندازے سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اس کی چوڑائی کی کوئی انتہا نہیں۔ پس اس پرآگاہی رکھنے والا عارف ہمیشہ اس جنت میں رہتا ہے جس کی چوڑائی میں زمین وآسمان سماجائیں، اس کے باغات میں کھاتا، اس کے پھلوں کو توڑتا اور اس کے حوضوں سے پیتا ہے اور وہ