افعال اور زمین کی گہرائیوں سے عرش تک اس کی مملکت کی تدبیر کا علم ہے۔تویہ جان لینا چاہئے کہ تمام لذتوں جیسے شہوت،غضب اور حواس کی تمام لذتوں سے زیادہ قوی معرفت کی لذت ہے کیونکہ اولاً تولذّات کی انواع میں اختلاف ہے جیسے جماع کی لذت سماع کی لذت سے مختلف ہے اور معرفت کی لذّت ریاست کی لذت سے جدا ہے۔پھر ان میں قوت اور ضعف کے اعتبار سے بھی تفاوت ہے،جیسے زیادہ شہوت والے شخص کی لذتِ جماع کم شہوت والے سے مختلف ہوتی ہے اور جیسے انتہائی حسین وجمیل چہرے کی طرف نظر کرنے کی لذت کم حسن و جمال والے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کے برعکس ہو تی ہےاور لذات میں سے زیادہ قوی کی پہچان یہ ہے کہ اس کو غیر پر ترجیح دے مثلاً اگر کسی شخص کو حسین وجمیل چہرے کی طرف دیکھنےاور اس کے مشاہدے سے لطف اٹھانے اور عمدہ خوش بوئیں سونگھنے میں اختیار دیا جائے تو جب وہ صورتِ جمیلہ کی طرف دیکھنا اختیار کر لے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ اس کے نزدیک خوشبو سے بڑھ کر لذیذ ہے ۔اسی طرح اگر کھانے کے وقت میں کھانا موجود ہو اور شطرنج کھیلنے والا کھانا چھوڑ کر کھیلنے میں لگا رہے تو اس سے معلوم ہو جائے گا کہ اس کے نزدیک شطرنج کی لذت کھانے کی لذت سے قوی ہے۔
لذتوں کی ترجیح کے لئے سچی کسوٹی:
لذتوں کی ترجیح کے سلسلے میں بیان کردہ طریقہ ایک سچی کسوٹی ہےتواب ہم مقصود کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لذات کی دو اقسام ہیں:(۱)…ظاہری جیسے حواسِ خمسہ کی لذت اور(۲)…باطنی جیسے ریاست،غلبہ،بزرگی اور علم وغیرہ کی لذت کیونکہ یہ لذت آنکھ ،ناک،کان،چھونے اور چکھنے سے تعلق نہیں رکھتی اور اہْلِ کمال پر ظاہری لذّات کی بَنِسْبَت باطِنی لذّات غالب ہوتی ہیں تو اگر کسی شخص کو فربہ مرغی کا گوشت اور حلوہ کھانے کی لذت یا ریاست،دشمنوں پر غلبہ اور بلند مراتب کو پانے کی لذت میں اختیار دیا جائے تواگر وہ کم ہمت،مردہ دل اور انتہائی حریص ہوا تو گوشت اور حلوے کو اختیار کرے گا اور اگر وہ بلند ہمت اور کامل عقل والا ہوا تو ریاست کو اختیار کرے گا اور بھوکا رہنا نیزکافی دن تک ضروری غذا سے بھی صبر کر لینا اس پر آسان ہوگا پس اس کا ریاست کو اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اس کے نزدیک عمدہ کھانوں سے زیادہ لذیذ ہے ۔
البتہ وہ ناقص جس کے باطنی معانی ابھی کمال تک نہ پہنچے ہوں جیسے بچہ یا وہ جس کی قوتِ باطنی مر چکی ہو