احوال جانتا ہے اور اس کی خبر دیتا ہے وہ اسی میں لذت پاتا ہے اوراگر اس کو وہ احوال معلوم نہ ہوں تو اس کی طبیعت ان احوال کو جاننے کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا اگر اس کو شہر کے سربراہ کے باطنی احوال اور اس کی ریاستی تدابیر کے اسرار کا علم ہو تو یہ اس کے نزدیک کسان اور جولاہے کے باطنی احوال کے علم سے زیادہ لذیذ اور عمدہ ہوگا اور اگر وہ وزیر کی خفیہ باتوں اور اس کی تدابیر نیز امورِ وزارت میں جن باتوں کا اس نے عزم کیا ہوا ہے ان پر مُطَّلَع ہوجائے تو یہ اس کے نزدیک سربراہِ شہر کے احوالِ باطنیہ جاننے سے زیادہ لذیذ ہوگا ۔پھر اگر وہ بادشاہ اور سلطان کے باطنی احوال جانتا ہو جو کہ وزیر سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے تو یہ اس کے نزدیک وزیر کے باطنی اسرار جاننے سے بھی زیادہ لذیذ ہوگا اور اس کی وجہ سے اس کا فخر، اس کی حرص اور اس کے بارے میں تجسس زیادہ ہوگااور اس علم کی محبت بھی اس کو زیادہ ہوگی کیونکہ اس میں لذت زیادہ ہے ۔
اس گفتگو سے واضح ہوگیا کہ معلومات میں سب سے زیادہ لذیذ وہ ہیں جو ان میں اشرف ہیں اور ان کی شرافت معلوم کی شرافت کے بَقَدْر ہوتی ہے ،پس اگر معلومات میں کوئی چیز اکمل،اشرف اور اعظم ہوگی تو لازمی طور پر اس کا علم بھی سب سے لذیذ،اشرف اور عمدہ ہوگااور میرے علم میں موجودات میں کوئی شے اس ذات سے زیادہ اجل،اعلیٰ،اشرف،اکمل اور اعظم ہے ہی نہیں جس نے تمام اشیاء کو پیداکیا،ان کو مکمل اور مُزَیَّن کیا۔ پہلے انہیں وجود بخشا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور وہ ہی ان کی ترتیب وتدبیر کرنے والا ہے۔ کیایہ ہوسکتا ہے کہ کوئی اور بارگاہ ملک،کمال، جمال،حسن اور جلال میں بارگاہِ خداوندیسے زیادہ ہو کہ وصفِ واصفین جس کے مبادی جلال اور عجائبِ احوال کا احاطہ نہیں کر سکتا؟
سب سے زیادہ لذت والا علم:
اگرتم ان باتوں میں شک نہیں کرتے تو پھر تمہیں اس میں بھی شک نہیں کرنا چاہیے کہ اسرارِ ربوبیت پر آگاہی اور تمام موجودات کااحاطہ کرنے والے امورِ الہٰیہ کے مرتب ہونے کا علم معارف اور اطلاعات کی تمام اقسام میں سب سے اعلیٰ،لذیذ،عمدہ اور پسندیدہ ہےاور اسی کے ساتھ مُتَّصِف ہونے کی صورت میں نفس کو اپنا کمال اور جمال سمجھنا زیبا ہے اور اسی کی وجہ سے زیادہ فرحت اور خوشی ہونا مناسب ہے ۔اس سے واضح ہوگیا کہ علم لذیذ ہے اور علوم میں سب سے زیادہ لذیذ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات، اس کی صفات ،اس کے