Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
48 - 784
اور صفاتِ اُلُوہیت کے ساتھ متصف ہے اور ہم اس طبیعت کا نام عقل رکھتے ہیں بشرطیکہ اس لفظ ”عقل“سے کوئی وہ قوت نہ سمجھے جس سے مجادلے اور مناظرے کے طریقے کا ادراک کیا جاتا ہےکیونکہ عقل اس معنی میں مشہور ہے۔اسی لئےبعض صوفیا نے اس کی مذمت کی ہے ورنہ تو جس صفت کی وجہ سے انسان چوپایوں سے ممتاز ہواور جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت کا ادراک کیا جاتا ہو وہ بہت عمدہ صفت ہے،اس کی مذمت کرنامناسب نہیں ۔یہ طبیعت تمام امور کے حقائق جاننے کے لئےپیدا کی گئی ہے تو اس کا طبعی تقاضامعرفت اور علم ہے اور یہی اس کی لذت ہے جیساکہ دیگر طبیعتوں کے تقاضے ان کی لذات ہیں۔
علم ومعرفت میں لذت:
	یہ بات مخفی نہیں کہ علم اور معرفت میں لذت ہے حتّٰی کہ اگر کسی شخص کی نسبت علم اور معرفت کی طرف کی جائے تو وہ خوش ہوتا ہے اگرچہ وہ علم کسی گھٹیاشے کا ہی کیوں نہ ہو اور جو جہل کی طرف منسوب کیا جائے وہ مغموم ہوتا ہے اگرچہ وہ جہل کسی حقیرشے کے متعلق ہی کیوں نہ ہو حتّٰی کہ حقیر اشیاء کا علم ہونے کی صورت میں بھی انسان اس پر فخر کرتا ہے اور لوگوں کو اس کا چیلنج کرنے سے  نہیں رکتا،مثلاً جس کو شطرنج کھیلنے کا علم ہے تو اس کے گھٹیا اور خسیس ہونے کے باوجود اس کی تعلیم سے چپ نہیں رہتا اور جو کچھ جانتا ہے اس کو اپنی زبان پرلے آتا ہے اور یہ سب لذتِ علم کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس لئےکہ وہ اس علم کو اپنی ذات کا کمال سمجھتا ہے، کیونکہ صفاتِ رَبُوْبِیَّت میں سے علم خاص صفت ہے اور یہ انتہائے کمال ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی آدمی کی تعریف ذہانت اور کثرتِ علم کے ساتھ کی جائے تو وہ فرحت محسوس کرتا ہے کیونکہ تعریف سننے سے وہ اپنی ذات اور علم کے کمال پر مطلع ہوتا ہے تو خود پسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس سے لذت پاتا ہے۔
شرافت کے لحاظ سےعلم کی لذت:
	پھر زراعت اور کپڑے سینے کے علم کی وہ لذت نہیں جو لذت ملکی سیاست اور مخلوق کے کاموں کی تدبیر کے علم کی ہے اور نہ ہی عِلْمِ نحو اور شعر کی لذت ایسی ہے جیسی لذت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات ،اس کی صفات،اس کے فرشتوں اور زمین و آسمان کے ملکوت کے علم کی ہے ۔بلکہ علم کی لذت اسی قدر ہوگی جس قدر اس علم کی شرافت ہوگی اور علم کی شرافت اسی قدر ہوگی جس قدرمعلوم کی شرافت ہوگی حتّٰی کہ جو لوگوں کے مخفی