پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کو جتنا چاہا علم عطا فرمایا پھر تمام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾ (پ۱۵،بنیٓ اسرآئیل:۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اورتمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔
متفکرین کے لئے یہ طریقے مخلوق کے بارے میں غور وفکر کرنے کے ہیں، ذاتِ باری تعالیٰ میں غور وفکر کرنا اس میں شامل نہیں۔ البتہ مخلوق میں غوروفکر کرنے سے لامحالہ خالق اور اس کی عظمت وجلالت اور قدرت کی معرفت نصیب ہو جاتی ہے۔ پھر جیسے جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیدا کردہ عجائبات کی معرفت زیادہ ہوتی رہے گی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت وجلالت میں تمہاری معرفت بھی کامل ہوتی رہے گی۔ مثلاً تم کسی عالِم کے علم کی معرفت حاصل ہو جانے کے بعد اسے عظیم سمجھتے ہو اور مسلسل اس کے اشعار وتصنیفات میں انتہائی باریک نکات پر مطلع ہوتے ہو تو تمہیں اس کی مزید معرفت ہوتی رہتی ہے اور تمہارے دل میں اس کا احترام اور عزت وتعظیم بڑھتا رہتا ہے حتّٰی کہ اس کے کلام کا ہر کلمہ اور اس کے اشعار کا ہر عجیب شعر تمہارے دل میں اس کا مقام زیادہ کرتے ہوئے تمہیں اس کی عزت وتعظیم کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق اور اس کی تصنیف و تالیف میں غور کرو۔ کائنات میں جو کچھ ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تخلیق وتصنیف ہے اور اس میں غور وفکر کرنے کی کوئی انتہا نہیں۔ہربندے کےلئے اس میں سےاتنا ہی ہے جتنا اس کا نصیب ہے۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہم اسی پراکتفا کرتے ہیں اور جو کچھ ”صبر وشکر کے بیان“ میں ذکر ہوا اسے بھی اسی کے ساتھ ملاتے ہیں۔
فلسفی اور عالِم کا غور وفکر:
جب ہم اس غوروفکر کے بیان میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فعل کی طرف نظر کرتے ہیں تو اس میں بھی ہمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہم پر احسان وانعام نظر آتا ہے اورہم اسے فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فعل ہی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ بہرحال ہر وہ چیز جس میں ہم غور وفکر کرتے ہیں ایک فلسفی بھی اس میں غور کرتا ہے لیکن اس کا غور وفکر کرنا اس کی گمراہی اور بدبختی کا سبب بنتا ہے اور جسے توفیْقِ الٰہی ہو اس کا غور وفکر کرنا ہدایت و خوش بختی کا سبب بنتا ہے۔آسمان وزمین کے کسی ذرّے کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت دے دے۔لہٰذا جو ان اُمور میں اس حیثیت سے غور وفکر کرتا ہے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فعل اور اسی کی صنعت ہے تو