عجائبات اور اس میں کی گئی عمدہ کاریگری جاننے کا کوئی راستہ ہی نہیں جبکہ تمہیں تو طاقت ہے کہ تم مَلکوت میں غور وفکر کرو اور اس کے ان عجائبات کی معرفت حاصل کر لو جن سے لوگ غافل ہیں۔
اب ہم کلام کی لگام کو اس موضوع سے پیچھے کھینچتے ہیں کیونکہ اس وسیع میدان کی کوئی انتہا نہیں۔ اگر ہم طویل عمریں صرف کر دیں پھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہم پر جو فضل کیا ہے ہم اس کی معرفت کی تشریح کرنے پر قادر نہیں۔ جو معرفت ہمیں حاصل ہے وہ اولیا اور علمارَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی معرفت کے مقابلے میں بہت ہی قلیل ہے اور جو ان کو حاصل ہے وہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی معرفت کے مقابلے بہت قلیل ہے اور جو معرفت تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو حاصل ہے وہ جنابسَیِّدُالْمُرْسَلِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حاصل معرفت کے مقابلے میں بہت تھوڑی ہے اور جو معرفت سیِّدُالانبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حاصل ہے وہ ملائکَۂ مقربین یعنی حضرت اسرافیل وجبریل وغیرہ عَلَیْہِمُ السَّلَام کی معرفت کے مقابلے میں قلیل ہے۔(1)
تمام ملائکہ اور جن وانس کے تمام علوم کو اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم کی طرف نسبت دی توجائے ان تمام کا علم، علم کہلانےکا مستحق ہی نہیں بلکہ اسے مدہوشی، حیرت،کم علمی اورعجز کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… یہ سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کا موقف ہے۔ جمہور علما اس طرف گئے ہیں کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رب تعالیٰ کی سب سےزیادہ معرفت رکھتے ہیں۔چنانچہعارف باللہ علامہ عبدُالغنی نابُلُسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی”اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ شَرْحُ الطَّرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ“ میں فرماتے ہیں:” رسولِ اكرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوقات سے بڑھ کر رب تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں۔“(الحديقة الندیة،الباب الاول ،الفصل الثالث، ۱/ ۱۹۵، مکتبہ فاروقیہ پشاور)
حتّٰی کہ علامہ اسماعیل حقّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ”تفسیر روح البیان“میں فرماتے ہیں:”وَقَدْ اِنْعَقَدَ الْاِجْمَاعُ عَلٰی اَنَّ نَبِیَّـنَا عَلَیْہِ السَّلَامْ اَعْلَمُ الْخَلْقِ وَاَفْضَلُھُمْ عَلَی الْاِطْلَاقْ یعنی اس بات پر اجماع منعقد ہوچکا ہے کہ ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوق سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور تمام مخلوق سے افضل ہیں علی الاطلاق۔“(تفسیر روح البیان، ۵/ ۲۷۴)
سيِّدِی اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ، صفحہ72 پر امام ابن حجر مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے فرماتے ہیں: ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضور کو سارے جہاں کا علم دیا تو حضور نے تمام اگلوں پچھلوں کا علم اور جو کچھ ہو گزرا ہے اور ہونےوالا سب جان لیا۔“ صفحہ73پر شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے فرماتے ہیں:” نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام اشیاء کو جانتے ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کام اور احکام اور صفات اور اسماء اور افعال اور آثار تمام علوم ظاہر وباطن واوّل وآخر کا احاطہ فرمالیا اور حضور اس آیت کے مصداق ہوئے کہ ہر علم والے سے اوپر علم والا ہے۔“