Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
47 - 784
چوتھی فصل:			سب سے عُمدہ اور اعلٰی لذّت 
سب سے عمدہ اور اعلیٰ درجے کی لذت معرفَتِ الٰہی اور دیدارِ الٰہی کی لذت ہے اور اس پر
کسی دوسری لذت کو ترجیح دینے کا تصورصرف وہی کرسکتا ہے جو اس لذت سے محروم ہو۔
دل میں نورِ الٰہی:
	جان لیجئے  کہ لذّتیں ادراکات کے تابع ہیں اور انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے بہت سی قوتوں اور طبیعتوں کا مُرَکَّب ہے اور ہر قوّت اور طبیعت کی ایک الگ لذت ہے اور وہ لذت طبیعت کے اس تقاضے کو پاناہے جس کے لئےاس کو پیدا کیا گیا ہے کیونکہ انسان میں ان طبیعتوں کوبے کار پیدا نہیں کیا گیا بلکہ ہر طبیعت اور قوت کو کسی نہ کسی کام کے لئےپیدا کیا گیا ہے جو اس کا طبعی تقاضا ہے۔ مثال کے طور پر طبیعَتِ غضب،سکون و اطمینان پانےاور انتقام کے لئےپیدا کی گئی ہے تو ضروری طور پر اس کی لذت غلبے اور انتقام میں ہوگی جو اس کا طبعی تقاضا ہےاورکھانا طلب کرنے والی طبیعت اس غذا کو حاصل کرنے کے لئےپیدا کی گئی ہے جس کے ساتھ اس کی زندگی کا قیام ہے تو لازمی طور پر اس کی لذت اس غذا کو پانے میں ہوگی جو اس کی طبیعت کا تقاضا ہے اوراسی طرح سَمْع،بَصَراور شَم کی لذت سننے،دیکھنے اور سونگھنے میں ہوگی۔ حاصل یہ کہ ان طبیعتوں میں سے کوئی بھی طبیعت ادراک کی جانے والی اشیاء کے اعتبار سے تکلیف یا لذت سے خالی نہیں ہوتی۔ اسی طرح دل میں ایک طبیعت ہے جسے نورِ الٰہی کہا جاتا ہےجیساکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے :
اَفَمَنۡ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ (پ۲۳،الزمر:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئےکھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔
	بعض اوقات اس نورِالٰہی کو عقل،کبھی بصیرتِ باطنی،کبھی نورِ ایمان اورکبھی یقین بھی کہتے ہیں۔ ناموں میں مشغول ہونا بے معنی ہے کیونکہ اصطلاحات مختلف ہیں اورکمزور بصیرت والا بعض اوقات یہ سمجھ لیتا ہے کہ اختلاف معانی میں ہے کیونکہ وہ الفاظ سے معانی کو تلاش کرتا ہے حالانکہ یہ واجب کے برخلاف ہے۔ چنانچہ، دل ایک ایسی صفت کی وجہ سے تمام اجزائے بدن سے جدا ہے جس کے ذریعے یہ غیرمُتَخَیَّل اور غیر محسوس معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جیسے عالَم کا پیدا ہونا اور اس کا ایک ایسے خالق کی طرف محتاج ہونا جو قدیم،مُدَبِّر،حکیم